
بد قسمتی سے میں کم عمری سے ہی پولیو کا شکار ہو گیا تھا۔ اس وائرس نے نہ صرف میری دونوں ٹانگوں کو متاثر کیا بلکہ میری ریڑھ کی ہڈی کو بھی نقصان پہنچایا۔
معذوری کے ساتھ زندگی گزارنا میرے لئے ایک بہت بڑا چیلنج رہا ہے۔ یہاں تک کہ میں یہ تصور بھی نہیں کر سکتا کہ چہل قدمی کیسی ہوتی ہے۔
میں دوسروں کی مدد کے بغیر ادھر ادھر حرکت نہیں کر سکتا۔ حالانکہ میرے پاس خصوصی موٹر سائیکل ہے جو میں کہیں آنے جانے کے لئے استعمال کرتا ہوں لیکن مجھے اس پر سوار ہونے اور اس سے اترنے کے لئے مدد کی ضرورت ہوتی ہے۔
اگر میں معذور نہ ہوتا، تو میں آسمان کی حدوں کو چھوتا۔ میری تعلیم، کام اور اس کے ساتھ ساتھ میری سماجی زندگی بری طرح متاثر ہوئی کیوں کہ مجھے جب کبھی کہیں جانا ہوتا ہے تو مجھے اٹھا کر سواری پر بٹھایا جاتا ہے۔ اس کے باوجود میرے عزائم کمزور نہیں پڑے میں اپنی زندگی بھرپور طریقے سے گزارنا چاہتا ہوں۔ میں نے جیسے تیسے معاشیات میں ماسٹرز کر لیا تھا اور میں ایک ویب سائیٹ چلا رہا ہوں جو ٹھیک ٹھاک چل رہی ہے۔
محکمہ صحت کے حکام اور والدین کی جانب سے مضبوط عزم، پولیو کے قطرے، آگہی اور ویکسی نیٹرز کے لئے تحفظ ہماری جان اس لعنت سے چھڑانے میں یقینی کامیابی کا حل ہیں۔
میں پولیو کے بارے میں آگہی میں اضافہ کرنے کے لئے اخبارات اور ٹیلی وژن چینلز کو انٹرویوز دیتا ہوں۔ اس کے علاوہ، میں اپنی معذوری کو لوگوں کو یہ دکھانے کے لئے استعمال کرتا ہوں کہ اگر انہیں پولیو ہو جائے تو کیا ہو سکتا ہے۔
مجھے اس دن کا بے تابی سے انتظار ہے جب پاکستان پولیو سے پاک ملکوں کی صف میں ہو گا۔