مجھے کچھ یاد نہیں کہ مجھے پولیو کس طرح لاحق ہوا کیوں کہ میری عمر صرف ایک سال تھی۔ جب میں اپنے ارد گرد کے ماحول سے مانوس ہونے لگی، تو میں نے محسوس کیا کہ میں دیگر بچوں سے مختلف تھی۔

معذوری کے ساتھ پرورش پانا ایک ڈراؤنا خواب ہے۔ میں جسمانی سرگرمیوں میں حصہ نہیں لے سکتی جس کی وجہ سے میں اپنے آپ کو الگ تھلگ محسوس کرتی ہوں۔ مجھے سب سے بڑا مسئلہ اسکول جانے میں پیش آیا۔ مجھے بڑی دیر تک پیدل چلنا پڑتا تھا اور سرکاری ٹرانسپورٹ تک رسائی بہت مشکل تھی۔ جب میں کالج گئی تو مجھے فاصلہ زیادہ ہونے کی وجہ سے اور زیادہ مشکل کا سامنا کرنا پڑا۔

پولیو ہونے کا یہ مطلب نہیں ہوتا کہ آپ کچھ حاصل نہیں کر سکتے، اس کا مطلب ہوتا ہے کہ آپ کو سخت محنت کرنی ہوتی ہے۔ اپنی معذوری کے باوجود میں نے اپنی تعلیم مکمل کی اور اپنی ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی۔ اب میری عمر 28 برس ہے، میں ایک باوقار ملازمت کر رہی ہوں جو مجھے اعتماد اور خود انحصاری عطا کرتی ہے۔

ہمیں ملک میں ہر کسی کو یہ احساس دلانے کی ضرورت ہے کہ ویکسین کے حقیقی فوائد کیا ہیں۔ ہمیں انہیں اس بات سے آگاہ کرنے کی ضرورت ہے کہ اپنے بچوں کی صحت مند نشوونماء کا موقع فراہم کرنے سے انکار جرم ہے۔

آج کے نوجوانوں کو بھی یہ جاننے کی ضرورت ہے کہ پولیو کیا ہے۔ میرے خیال میں اگر ہم یہ سوچیں کہ ویکسین مضر ہے تو ہم سنگین غلطی پر ہوں گے؛ دنیا کی زیادہ تر اقوام پولیو سے محض اس لئے پاک ہیں کیوں کہ انہیں نے ویکسین کو اپنا لیا ہے۔