
جب میں تین برس کا تھا تو میرا بایاں پاؤں پولیو سے متاثر ہو گیا تھا۔ میں بڑی مشکل سے اپنی ٹانگ کو گھسیٹتا ہوا اسکول جاتا تھا۔
34 سال کی عمر میں بھی میں مفلوج کر دینے والے اس مرض کے اثرات بھگت رہا ہوں لیکن اپنے عزم، محنت اور گھر والوں اور دوستوں کی مدد سے میں تمام چیلنجوں کا مقابلہ کر سکتا ہوں۔
میں چاہتا ہو کہ لوگوں کو اس بات پر آمادہ کروں کہ وہ مثبت تبدیلی کے لئے سوشل میڈیا کو استعمال کریں۔ اب تک، میرے فیس بک صفحے "کوئٹہ آن لائن" پر 26,000 رضا کار جمع ہو چکے ہیں جو نوجوانوں کو بااختیار بنانے، پولیو سے آگہی پیدا کرنے، صحت کے ماحول، خون کے عطیات اور تعلیم کا پرچار کررہے ہیں۔
میری یہ خواہش ہے کہ ہر لمحے سرفہرست رہ کر اپنی زندگی گزاروں۔ میں نے انفارمیشن ٹیکنالوجی میں اپنی ماسٹرز ڈگری مکمل کی تھی اور اب ایک انتہائی معروف سرکاری محکمے میں کام کر رہا ہوں۔ میں اپنی کار خود چلاتا ہوں اور اپنے تین بچوں کے ساتھ مختلف کھیل کھیلتا ہوں۔
پاکستان میں پولیو کے خاتمے کے لئےبااثر افراد اور کمیونٹی کے معززین کو بچوں کی ویکسی نیشن کی جانب ذہنوں کو تبدیل کرنے کے لئے ساتھ ساتھ کام کرنا چاہیئے۔ ہمارے روائتی اور قبائلی ماحول میں، وہ والدین کو پولیو کے خلاف اپنے بچوں کو ویکسی نیٹ کروانے کے لئے قائل کرنے میں اپنا کردارادا کر سکتے ہیں۔
والدین اپنی ترجیح استعمال کرتے ہوئے اپنے بچوں کو معذوری کے خطرے سے دوچار نہیں کرنا چاہیئے؛ انہیں امراض کے خلاف اپنے بچوں کی بر وقت ویکسی نیشن کروانے کی ذمہ داری نبھانی چاہیئے اور انہیں ایک صحت مند مستقل پیش کرنا چاہیئے۔