
میں دو سال کاتھا جب مجھے پولیو لاحق ہوا۔ جب میں چھوٹا تھا تو پولیو میرے لئے کوئی اتنا بڑا مسئلہ نہیں تھا؛ میں تھوڑا سا لنگڑا لیتا تھا لیکن میں دوڑ لیتا تھا اور کسی حد تک فٹ بال بھی کھیل لیتا تھا۔ جوں جوں میں بڑا ہوا، مشکل میں اضافہ شروع ہو گیا اور جلد میرے لئے اپنی ٹانگ پر وزن ڈالنا بہت مشکل ہو گیا۔
وہ وقت میرے زندگی کا خط تقسیم تھا۔ میں اب وہ کام کرنے کے قابل نہیں رہا تھا جو میں پہلے کر لیا کرتا تھا۔ پولیو کے ساتھ زندگی گزارنے کے لئے آگے کا سوچنا پڑتا ہے اور اپنی ذہنی سوچ کو اپنی جسمانی حدوں کے مطابق ڈھالنا پڑتا ہے۔
اب میں 32 برس کا ہوں، میں اپنی روزی کمانے کے لئے رکشہ چلاتا ہوں۔ میں رکشہ سے جو کماتا ہوں اس سےمیری گزر اوقات ہوتی ہے، لیکن میں یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ اگر پولیو نہ ہوتا تو یقیناً چیزیں کچھ مختلف ہوتیں۔
میرے وقت میں کوئی بھی مجھے پولیو کے قطرے پلانے نہیں آیا۔ میں خوش قسمت ہوں کہ اس مرض سے لڑ رہا ہوں جب کہ بہت سے لوگ ایسا نہیں کر پاتے۔ اب میں دیکھتا ہوں کہ ملک بھر میں مرد اور عورتیں اس مرض کے بارے میں اپنے دروازے پر آگہی حاصل کر رہے ہیں جسے کسی لاگت کے بغیر روکا جا سکتا ہے۔ میں اس بات کی زندہ مثال ہوں کہ پولیو لوگوں کے ساتھ کیا کرتا ہے۔