
میں تین سال کی عمر میں پولیو کی وجہ سے مفلوج ہوئی۔ میری والدہ کہتی ہیں کہ مجھے کبھی ویکسی نیٹ نہیں کروایا گیا، جس کی وجہ میں آج اس ناقابل علاج معذوری کے ساتھ زندگی گزار رہی ہوں۔ میرے والد مجھے اسکول لے کر جایا کرتےتھے اور جب ان کا انتقال ہو گیا تو میرے بھائیوں نے اس وقت تک یہ ذمہ داری نبھائی جب تک میں نے کالج میں داخلہ نہیں لے لیا۔ جب میرے دو بھائی کام کے سلسلے میں بیرون ملک چلے گئے تو اپنی پڑھائی جاری رکھنا میرے لئے ایک حقیقی جدوجہد تھی۔ میری والدہ مجھے لاہور لے گئیں اور اس وقت تک میرے ساتھ ہوسٹل میں رہیں جب تک میں نے فائن آرٹس میں ماسٹرز نہیں کر لیا۔
اب جب کہ میری والدہ بوڑھی ہو چکی ہیں، میں کبھی کبھار اپنے آپ کو بے یارومددگار پاتی ہوں کیوں کہ گھر کے کاموں میں ان کی مدد نہیں کر سکتی نہ ہی ان کے بیمار پڑنے پر ان کی مناسب دیکھ بھال کر پاتی ہوں۔ مجھے حکومت پاکستان کی جانب سے ریاستی اعزاز، میڈل آف ایکسی لینس سے نوازا گیا تھا۔
طویل معذوریاں طبی بلوں اور طویل المدت دیکھ بھال کی وجہ سے مالی مشکلات کا سبب بھی بن سکتی ہیں۔ اس کے برعکس، عوام کے لئے آگہی کے ساتھ امراض کے خلاف بچوں کی ویکسی نیشن کروانا اچھی حکمت عملی ہے۔ پولیو کا خاتمہ اس وقت ہی کیا جا سکتا ہے جب ہر کوئی یہ جانتا ہو کہ اس کا خاتمہ کیسے کیا جا سکتا ہے۔