جب مجھے پولیو لاحق ہوا تو میری عمر صرف ایک سال تھی۔ میرے بیمار پڑنے پر، میرے والدین مجھے بہت سے ڈاکٹروں کے پاس لے گئے لیکن میں ٹھیک نہ ہو سکی۔

میرے والدین اور بہن بھائیوں کو مجھے گود میں اٹھا کر کلاس روم لے جانا پڑتا تھا۔ میں بچوں کو بھاگتے ہوئے، اپنے پاس سے تیزی سے گزرتے ہوئے دیکھ سکتی تھی۔ مجھے کئی کئی گھنٹے اپنا بیگ اٹھوانے کے لئے کسی رضاکار کا انتظار کرناپڑتا تھا۔ میں ٹیچر بننے کے لئے اعلیٰ تعلیم مکمل کرنا چاہتی تھی، لیکن نقل و حرکت میں مشکل کی وجہ سے میں صرف میٹرک ہی مکمل کر پائی۔

اب میں 35 برس کی ہو چکی ہوں، شادی شدہ ہوں اور میرا ایک بچہ ہے۔ ایک مرتبہ میرے بچے نے اپنا ہاتھ جلا لیا تھا کیوں کہ میں بروقت اٹھ کر اسے نہیں بچا سکی تھی۔ سلائی کرنے اور گھر کے کام کاج کرنے میں مجھے بڑی دقت کا سامنا ہوتا ہے، لیکن میں نے اپنے خاندان کے لئے روزی کمانے والا فرد بننے کی ٹھان رکھی ہے۔

میرے والدین نے مجھے پولیو کے قطرے پلوانے سے انکار کرکے بہت بڑی غلطی کی تھی۔ 

میں پولیو سمیت بچوں کے حفاظتی ٹیکوں کی اہمیت کو اجاگر کرنے کے لئے ماؤں کے لئے منعقد کئے جانے والے آگہی سیشنز میں حصہ لیتی ہوں۔ اگر میرے رشتہ دار اور پڑوسی اپنے بچوں کو پولیو ویکسین پلوانا بھول جائیں تو انہیں یاد دلانے کے لئے ان تک پہنچنے کی بھی کوشش کرتی ہوں۔