
میں اس وقت ایک برس کا تھا جب میری دونوں ٹانگیں پولیو کی وجہ سے مفلوج ہو گئی تھیں۔ ایک رات مجھے بخار ہوا تھا، جس کے بعد میں اپنی ٹانگوں پر کھڑا نہیں ہو سکا۔
مجھے اپنے بچپن میں بڑے مشکل وقت سے گزرنا پڑا۔ میں پوری طرح اپنے والدین پر انحصار کرتا تھا۔ میرے رشتہ دار مجھ سے ہمدردانہ سلوک کرتے تھے لیکن اپنے اندر کہیں دور میں یہ محسوس کرتا تھا کہ وہ میری معذوری کی وجہ سے مجھ سے خصوص برتاؤ کرتے تھے۔ میرے خاندان نے مجھ سے بے پناہ محبت کی اور میرا بہت خیال رکھا۔ اگر پولیو کی وجہ سے ایسا نہ ہوتا، تو ممکن ہے میں نے زندگی میں کہیں بہتر مواقع سے فائدہ اٹھایا ہوتا؛ میں اپنے خاندان کی زیادہ بہتر انداز میں خدمت کر سکتا تھا اور اپنی کمیونٹی کی خوشحالی میں زیادہ سرگرمی سے حصہ لے سکتا تھا۔
لیکن معذوری نے میرے جذبوں کو ٹھنڈا نہیں ہونے دیا۔ میں نے پڑھائی کی اور ایک سوشل موبلائزر کی حیثیت سے اپنے لئے کیریئر کا انتخاب کرنے کے لئے سخت محنت کی۔ آج مجھے اس بات پر فخر ہے کہ میری محنت رنگ لائی ہے اورمیں اس وقت اپنے آپ کو ایک کامیاب انسان تصور کرتا ہوں جب میں بہت سے خاندانوں کو اس بات پر آمادہ کرتا ہوں کہ وہ اپنے بچوں کو پولیو کے خلاف ویکسی نیٹ کروائیں۔
میں یہ دیکھ کر افسردہ ہو جاتا ہوں کہ میرا ملک ایک ایسے مرض کی وجہ سے کمزور ہوتا جا رہا ہے جس نے پوری دنیا میں ایک تاریخی حیثیت حاصل کر لی ہے۔ میں ایک ایسے پاکستان کا خواب دیکھتا ہوں جہاں تمام بچے صحت مند جسموں کے ساتھ پروقار انداز میں سیکھنے اور کھیلنے کے لئے اسکول جا سکیں۔