
میرے لئے چلنا یا بس پر سوار ہونا یا اترنا بہت مشکل ہے۔ یہ سب کرنے میں مجھے وقت لگتا ہے اور بس ڈرائیور میرے لئے انتظار نہیں کرتا۔ یونیورسٹی جانے اور واپس آنے میں یہ ایک بڑا مسئلہ ہے۔
پولیو کے بغیر میری زندگی مکمل طور پر مختلف ہوتی۔ میں کرکٹ کا ایک بڑا کھلاڑی بن سکتا تھا، مجھے اسکول میں تنگ نہ کیا جاتا، میں زیادہ کما سکتا تھا، اور میں دنیا بھر میں سفر کر سکتا تھا۔
زندگی ہمارے سامنے کٹھن چیلنجز رکھتی ہے – اب اس کا انحصار آپ پر ہے کہ آپ ان سے کیسے نمٹتے ہیں۔
میں پولیو مہم کے دوران اپنی کمیونٹی میں گھر گھر جاتا ہوں تاکہ لوگوں کو یہ بتا سکوں: مجھے دیکھو، کیا تم چاہتے ہو کہ تمہارے بچے میری طرح پولیو سے متاثرہ ہو جائیں؟ اگر نہیں، تو انہیں ویکسین پینے دیں، کیوں کہ یہ ہمارے ملک کا مستقبل ہیں۔
ہمیں لوگوں کو اس بات پر قائل کرنے کی ضرورت ہے کہ ویکسین کے قطرے ان کے بچوں کے مفاد میں ہیں۔ ہم پر لازم ہے کہ ہم پولیو کو پاکستان اور پوری دنیا سے ٹھکرا دینے کے لئے یک جا ہو جائیں۔