اسلام آباد، 13 اکتوبر 2025 – پاکستان انسدادِ پولیو پروگرام، جس کی قیادت نیشنل ایمرجنسی آپریشنز سینٹر اور اس کے شراکت دار ادارے کر رہے ہیں، نے آج ملک بھر کے 159 اضلاع میں سات روزہ قومی پولیو مہم کا باقاعدہ آغاز کر دیا ہے۔ اس مہم کے دوران 4 کروڑ 50 لاکھ سے زائد بچوں کو پولیو کے قطرے پلائے جائیں گے، تاکہ ہر بچہ عمر بھر کی معذوری سے محفوظ رہ سکے۔ اس کے علاوہ، بچوں کے قوتِ مدافعت کو مضبوط بنانے کے لیے انہیں پولیو ویکسین کے ساتھ وٹامن اے کی اضافی خوراک بھی دی جائے گی۔
1994 میں پاکستان انسدادِ پولیو پروگرام کے آغاز سے لے کر اب تک، گھر گھر پولیو ویکسینیشن مہمات کے نتیجے میں پولیو کے سالانہ کیسز میں 99.6 فیصد کمی آئی ہے، جو 20,000 سالانہ کیسز سے کم ہو کر 2024 میں 74 رہ گئے، اور اس سال اب تک 29 کیسز رپورٹ ہو چکے ہیں۔
نیشنل ایمرجنسی آپریشنز سینٹر اور اس کے شراکت دار اداروں نے ملک بھر میں 4 لاکھ سے زائد تربیت یافتہ پولیو ورکرز کو متحرک کیا ہے، جو گھر گھر جا کر بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلائیں گے۔ یہ مہم 13 سے 19 اکتوبر تک ملک کے تمام حصوں میں جاری رہے گی، جبکہ جنوبی خیبرپختونخوا کے 7 اضلاع میں یہ مہم 20 سے 23 اکتوبر تک منعقد کی جائے گی۔
یہ رواں سال کی چوتھی قومی پولیو مہم ہے، جس کے دوران پنجاب میں 2 کروڑ 30 لاکھ سے زائد بچے، سندھ میں 1 کروڑ 6 لاکھ سے زائد بچے، خیبرپختونخوا میں 72 لاکھ سے زائد بچے، بلوچستان میں 26 لاکھ سے زائد بچے، آزاد جموں و کشمیر میں 7 لاکھ 60 ہزار سے زائد بچے، گلگت بلتستان میں 2 لاکھ 28 ہزار سے زائد بچے، اور اسلام آباد میں 4 لاکھ 60 ہزار سے زائد بچوں کو پولیو کے قطرے پلائے جائیں گے۔
یہ مہم ایسے وقت میں شروع کی جا رہی ہے جب ملک میں پولیو وائرس کے پھیلاؤ کے باعث رواں سال اب تک 29 بچے متاثر ہو چکے ہیں۔ حالیہ سیلابوں نے ملک کے کئی حصوں میں صفائی کے نظام کو نقصان پہنچایا، آبادیوں کی نقل مکانی اور صحت کی خدمات میں تعطل پیدا کیا، جس سے پولیو وائرس کے پھیلاؤ کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔
ملک بھر میں 4 کروڑ 50 لاکھ سے زائد بچوں تک رسائی اور ان کے تحفظ کے لیے یہ مہم حکومتِ پاکستان کے عزم کی عکاس ہے، جو بچوں کی صحت و بہبود کو یقینی بنانے اور ایک پولیو سے پاک مستقبل کے لیے عالمی و قومی وعدوں کی تکمیل پر مرکوز ہے۔
وزیراعظم کی فوکل پرسن برائے انسدادِ پولیو محترمہ عائشہ رضا فاروق نے کہا کہ: "پاکستان میں گزشتہ سال کے مقابلے میں وائرس کی موجودگی میں مجموعی طور پر کمی آئی ہے، لیکن ہمارا سفر ابھی ختم نہیں ہوا، خاص طور پر حالیہ سیلاب کے بعد پولیو کے پھیلاؤ کا خطرہ زیادہ بڑھ گیا ہے۔ بچوں کو پولیو سے بچانا ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ میں والدین سے اپیل کرتی ہوں کہ وہ پولیو ورکرز کے لیے اپنے دروازے کھولیں اور اپنے بچوں کو معذوری سے بچانے والے یہ قطرے لازمی پلوائیں۔"
انسدادِ پولیو مہم کے دوران اور بعد میں، صحت تحفظ ہیلپ لائن 1166 اور واٹس ایپ ہیلپ لائن 03467776546 والدین اور دیکھ بھال کرنے والوں کی رہنمائی کے لیے دستیاب رہیں گی۔ یہاں، وہ نہ صرف پولیو ویکسین سے محروم رہ جانے والے بچوں کی اطلاع دے سکیں گے، بلکہ دیگر متعلقہ معلومات بھی حاصل کر سکیں گے۔
*****
نوٹ برائے ایڈیٹر:
پولیو سے پانچ سال تک کے عمر کے بچے متاثر ہوتے ہیں۔اس بیماری سے بچے عمر بھر کیلئے معذور ہو جاتے ہیں۔ حتیٰ کہ بچوں کی موت بھی واقع ہو جاتی ہے۔ اس موذی مرض سے بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلوا کر چھٹکارا حاصل کیا جاسکتا ہے۔ پانچ سال سے کم عمر بچوں کو پولیو قطرے پلوا کر اس موذی وائرس کو پھیلنے سے بچایا جاسکتا ہے۔ بار بار پولیو قطرے پلوانے سے دنیا کے تمام ممالک پولیو سے پاک ہو چکے ہیں۔ انسداد پولیو مہم میں بڑھ چڑھ حصہ لینا ہم سب کا قومی فریضہ ہے۔
مزید معلومات کیلئے رابطہ کریں:
For further information, please contact: Mr. Syed Farhan Shah, Public Relations Officer, NEOC, +923165011808, syed.farhanshah1990@gmail.com.