اسلام آباد، 4 جون 2026ء: حکومتِ پاکستان کی زیرِ قیادت پاکستان انسدادِ پولیو پروگرام (PEI) نے 18 تا 24 مئی 2026ء کے دوران پنجاب، سندھ، خیبر پختونخوا، بلوچستان اور اسلام آباد کے 79 منتخب اضلاع میں منعقد ہونے والی ذیلی قومی انسدادِ پولیو مہم کا جائزہ لینے کے لیے ایک اجلاس منعقد کیا۔ اس ذیلی قومی مہم کا مقصد اُن زیادہ خطرے والے اضلاع کو نشانہ بنانا تھا جہاں ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی موجودگی سامنے آئی تھی، تاکہ ان ترجیحی علاقوں میں وائرس کی منتقلی کے خطرات کو کم کیا جا سکے۔

ایک ہفتے پر محیط اس مہم کے دوران تقریباً ایک لاکھ 63 ہزار فرنٹ لائن ہیلتھ ورکرز نے گھر گھر جا کر 1 کروڑ 86 لاکھ 10 ہزار سے زائد بچوں کو پولیو سے بچاؤ کی ویکسین پلائی۔ صوبائی سطح پر کوریج کے مطابق پنجاب میں 60 لاکھ 60 ہزار سے زائد، سندھ میں 57 لاکھ 40 ہزار، خیبر پختونخوا میں 43 لاکھ 90 ہزار سے زائد، بلوچستان میں 19 لاکھ 60 ہزار جبکہ اسلام آباد میں تقریباً 4 لاکھ 35 ہزار بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلائے گئے۔

انتظامی اعداد و شمار کے مطابق ملک بھر میں مہم کی مجموعی کوریج 98 فیصد رہی، جبکہ انکار کی شرح 0.12 فیصد کی کم سطح پر برقرار رہی۔ تقریباً 404,417 بچے (2.1 فیصد) گھروں پر دستیاب نہ ہونے کے باعث ویکسین سے محروم رہ گئے۔ تاہم، مہم کے آخری دنوں میں کی جانے والی خصوصی فالو اَپ سرگرمیوں کے ذریعے ان میں سے 88 فیصد بچوں تک رسائی حاصل کی گئی اور انہیں پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلائے گئے، جس سے مدافعتی خلا کو کم کرنے اور اس بات کو یقینی بنانے میں مدد ملی کہ کوئی بھی بچہ ویکسینیشن سے محروم نہ رہے۔

مہم کی کامیابی پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے وزیرِ اعظم کی فوکل پرسن برائے انسدادِ پولیو، محترمہ عائشہ رضا فاروق نے کہا:

"اس مہم کی کامیاب تکمیل ہمارے فرنٹ لائن ہیلتھ ورکرز کی انتھک محنت اور پاکستان بھر میں والدین، سرپرستوں اور کمیونٹیز کے مسلسل تعاون کی عکاس ہے۔ ویکسینیشن سے محروم رہ جانے والا ہر بچہ ایک خطرہ ہے، اور ہمیں اس وقت تک مل کر کام جاری رکھنا ہوگا جب تک ملک سے پولیو کا مکمل خاتمہ نہیں ہو جاتا۔"

پی ای آئی پولیو کے خاتمے کی کوششوں کے تسلسل میں سرحد پار اور علاقائی سطح پر رابطہ کاری کو مزید مضبوط بنانے کے لیے اپنی کاوشیں جاری رکھے ہوئے ہے۔ گزشتہ ماہ، پی ای آئی نے افغانستان کے پولیو پروگرام کے ساتھ ایک ٹیکنیکل ایڈوائزری گروپ کے اجلاس میں شرکت کی، جہاں وبائی امراض کے رجحانات کا جائزہ لیا گیا، باہمی ہم آہنگی کے مواقع کی نشاندہی کی گئی، اور رابطہ کاری و تعاون کو مزید مستحکم بنایا گیا۔ چونکہ پولیو وائرس سرحدوں کے آر پار آسانی سے پھیل سکتا ہے، اس لیے دونوں ممالک کے درمیان مسلسل رابطہ کاری کا برقرار رہنا وائرس کی منتقلی کے خاتمے اور اس تسلسل کو برقرار رکھنے کے لیے انتہائی ضروری ہے۔

قومی سطح پر، پی ای آئی 2026 کے نیشنل ایمرجنسی ایکشن پلان (NEAP) کو بھی حتمی شکل دے رہا ہے، جس میں پولیو کے خاتمے کی جانب پیش رفت کو تیز کرنے، وباء کے پھیلاؤ کے ردِعمل کو مضبوط بنانے، اور باقی ماندہ مدافعتی خلا کو پُر کرنے کے لیے ترجیحی اقدامات کی نشاندہی کی گئی ہے۔

پاکستان انسدادِ پولیو پروگرام پولیو کے خاتمے کے آخری مراحل تک پہنچنے کے لیے پُرعزم ہے۔ چونکہ ماحولیاتی نمونوں میں اب بھی پولیو وائرس کی موجودگی سامنے آ رہی ہے، اس لیے بار بار اور متواتر انسدادِ پولیو مہمات کا انعقاد ضروری ہے، جو وائرس کی منتقلی کو روکنے اور مضبوط قوتِ مدافعت پیدا کرنے اور اسے برقرار رکھنے کے لیے متعدد خوراکوں کی ضرورت پر زور دیتا ہے۔ پی ای آئی والدین، کمیونٹیز، اساتذہ، مذہبی رہنماؤں اور معاشرے کے تمام طبقات سے مسلسل تعاون کی اپیل کرتا ہے اور اس بات پر زور دیتا ہے کہ پانچ سال سے کم عمر ہر بچے کو ہر مہم کے دوران پولیو سے بچاؤ کے قطرے ضرور پلائے جائیں تاکہ انہیں مکمل تحفظ حاصل ہو سکے۔

پاکستان دنیا کے ان دو ممالک میں شامل ہے جہاں جنگلی پولیو وائرس اب بھی گردش کر رہا ہے، جبکہ دوسرا ملک افغانستان ہے۔ یہ صورتحال ہر بچے کے تحفظ کے لیے مسلسل اور اجتماعی کوششوں کی فوری ضرورت کو مزید اجاگر کرتی ہے۔

سال 2026ء میں اب تک پولیو ویکسینیشن کی دو مہمات منعقد کی جا چکی ہیں، جبکہ اگلی مہم ستمبر میں منعقد کی جائے گی۔ ملک بھر میں قوتِ مدافعت کی بلند سطح برقرار رکھنے کے لیے ضرورت کے مطابق ہائی رسک علاقوں میں اضافی اور ہدفی ویکسینیشن سرگرمیاں بھی انجام دی جائیں گی۔

 

نوٹ برائے ایڈیٹر:

پولیو سے پانچ سال تک کے عمر کے بچے متاثر ہوتے ہیں۔اس بیماری سے بچے عمر بھر کیلئے معذور ہو جاتے ہیں۔ حتیٰ کہ بچوں کی موت بھی واقع ہو جاتی ہے۔ اس موذی مرض سے بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلوا کر چھٹکارا حاصل کیا جاسکتا ہے۔ پانچ سال سے کم عمر بچوں کو پولیو قطرے پلوا کر اس موذی وائرس کو پھیلنے سے بچایا جاسکتا ہے۔ بار بار پولیو قطرے پلوانے سے دنیا کے تمام ممالک پولیو سے پاک ہو چکے ہیں۔ انسداد پولیو مہم میں بڑھ چڑھ حصہ لینا ہم سب کا قومی فریضہ ہے۔

مزید معلومات کیلئے رابطہ کریں

:

For further information, please contact: Mr. Syed Farhan Shah, Public Relations Officer, NEOC, +923165011808, syed.farhanshah1990@gmail.com