اسلام آباد، 27 اکتوبر، 2024 – پولیو کے خاتمے کے پختہ عزم کے ساتھ، پاکستان پولیو پروگرام نے ملک گیر پولیو مہم کا آغاز کر دیا ہے تاکہ پولیو وائرس کے دوبارہ پھیلاؤ کو روکا جا سکے اور بچوں کو معذوری کا سبب بننے والی اس بیماری سے محفوظ رکھا جا سکے۔ اس مہم کا ہدف ملک بھر میں 4 کروڑ 50 لاکھ سے زائد بچوں تک رسائی حاصل کرنا ہے۔
وزیر اعظم شہباز شریف نے پولیو کے عالمی دن کے موقع پر وزیر اعظم ہاؤس میں ایک تقریب کے دوران ملک گیر پولیو مہم کا افتتاح کیا۔ تقریب میں وزیر اعظم نے بچوں کو خود پولیو کے قطرے پلائے اور ان فرنٹ لائن ہیلتھ ورکرز کی انتھک کاوشوں کو سراہا جو گھر گھر جا کر یہ یقینی بناتے ہیں کہ کوئی بھی بچہ ویکسین سے محروم نہ رہے۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم شہباز شریف نے پولیو کے خلاف جدوجہد کی اہمیت پر زور دیتے ہوئےکہا، "پاکستان میں پولیو دوبارہ سر اٹھا رہا ہے، جو ہمیں اس خطرے پر قابو پانے کی اجتماعی ذمہ داری کی یاد دلاتا ہے۔ ہمیں متحد اور پُرعزم ہو کر اس جنگ کو لڑنا ہوگا، یہاں تک کہ ہم ایک پولیو سے پاک پاکستان کا خواب پورا کریں۔"
وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان پولیو کے خاتمے کے لیے غیر متزلزل عزم پختہ عزم کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے اور انہوں نے ملک کے تمام والدین پر زور دیا کہ وہ پولیو کے خلاف ایک قوم کی حیثیت سے متحد ہو کر تمام بچوں کو ہر بار پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلائیں۔
یہ مہم 28 اکتوبر سے 3 نومبر تک جاری رہے گی، جس کا مقصد پانچ سال سے کم عمر کے 4 کروڑ 50 لاکھ سے زائد بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلانا ہے۔ اس کے علاوہ، بچوں کی قوت مدافعت کو مضبوط کرنے کے لئے وٹامن اے کی اضافی خوراک بھی دی جائے گی۔
یہ اس سال پاکستان کی تیسری ملک گیر مہم ہے، جو حالیہ پولیو کیسز میں تشویشناک اضافے کے پیشِ نظر شروع کی گئی ہے۔ رواں سال پاکستان میں اب تک 41 کیسز رپورٹ ہوچکے ہیں جبکہ 71 اضلاع پولیو سے متاثر ہیں۔
اپنے خطاب میں وزیر اعظم کی فوکل پرسن برائے انسداد پولیو، عائشہ رضا فاروق نے کہا کہ وزیر اعظم کی قیادت میں پولیو پروگرام وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے اور بچوں کو پولیو سے ہونے والی معذوری سے محفوظ رکھنے کے لیے نئے جذبے اور عزم کے ساتھ کام کر رہا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ 28 اکتوبر سے پولیو ورکرز ملک کے ہر کونے میں پہنچیں گے اور ہر دروازے پر دستک دیں گے۔ وہ پولیو ویکسین کے ساتھ ساتھ بچوں کے صحت مند مستقبل کی امید بھی لائیں گے۔
انہوں نے والدین پر زور دیا کہ وہ اپنے بچوں کی ویکسینیشن کو ترجیح دیں اور کہا: "وائرس 71 اضلاع میں پھیل چکا ہے اور یہ ایک حقیقی خطرہ ہے۔ بطور والدین، یہ ہماری مشترکہ ذمہ داری ہے کہ ہم اپنے بچوں کا تحفظ یقینی بنائیں۔ حکومت پاکستان پولیو ویکسین آپ کی دہلیز پر فراہم کر رہی ہے، براہ کرم ہمارے پولیو ورکرز کو خوش آمدید کہیں، ان کی حوصلہ افزائی کریں اور ہر موقع پر اپنے بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے لازمی پلوائیں۔"
قومی ایمرجنسی آپریشنز سینٹر برائے انسدادِ پولیو کے کوآرڈینیٹر کیپٹن (ریٹائرڈ) محمد انوار الحق نے والدین پر زور دیا کہ وہ پولیو ورکرز کے ساتھ مکمل تعاون کریں۔ انہوں نے کہا، 'پولیو ایک لاعلاج ہے مگر پولیو ویکسین کی بدولت ہم بچوں کو اس موذی مرض سے محفوظ رکھ سکتے ہیں۔ بڑھتے ہوئے خطرات کے پیش نظر، ہمیں ایک قوم کی حیثیت سے متحد ہو کر اپنے بچوں کی ویکسینیشن کو یقینی بنانا ہوگا۔'
انسدادِ پولیو مہم کے دوران اور بعد میں، صحت تحفظ ہیلپ لائن 1166 اور 24/7 واٹس ایپ ہیلپ لائن 03467776546 والدین اور دیکھ بھال کرنے والوں کی رہنمائی کے لیے دستیاب رہیں گی۔ یہاں، وہ نہ صرف پولیو ویکسین سے محروم رہ جانے والے بچوں کی اطلاع دے سکیں گے، بلکہ دیگر متعلقہ معلومات بھی حاصل کر سکیں گے۔
نوٹ برائے ایڈیٹر:
پولیو ایک لاعلاج بیماری ہے جس سے پانچ سال تک کی عمر کے بچوں کو سب سے زیادہ خطرہ ہے۔ اس وائرس سے بچے عمر بھر کے لیے معذور ہو سکتے ہیں، حتیٰ کہ کچھ کیسز میں بچوں کی موت بھی واقع ہو سکتی ہے۔ پانچ سال سے کم عمر کے تمام بچوں کو اس موذی مرض سے پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلوا کر بچایا جا سکتا ہے، اور وائرس کو پھیلنے سے روکا جا سکتا ہے۔ متعدد بار پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلوانے سے دنیا کے تمام ممالک پولیو سے پاک ہو چکے ہیں، جبکہ پاکستان اور افغانستان وہ واحد ممالک رہ گئے ہیں جہاں پولیو اب بھی بچوں کے لیے خطرہ ہے۔ انسداد پولیو مہم میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینا ہم سب کا قومی فریضہ ہے۔
مزید معلومات کیلئے رابطہ کریں:
Ms. Hania Naeem, Communications Officer, NEOC, +923431101988