اسلام آباد، 18 نومبر 2025 — حکومتِ جاپان نے پاکستان میں پولیو کے خاتمے کی کوششوں کی مسلسل حمایت کے تحت پولیو ویکسین کی خریداری کے لیے 3.5 ملین امریکی ڈالر کے نئے گرانٹ کا اعلان کیا ہے۔ پاکستان انسدادِ پولیو پروگرام اس گرانٹ کا استعمال 2026 کی پولیو مہمات کے دوران 24 ملین سے زائد ویکسین خوراکیں خریدنے کے لیے کرے گا۔
پاکستان دنیا کے ان دو ممالک میں سے ایک ہے جہاں اب بھی پولیو وائرس کی منتقلی جاری ہے۔ 2025 میں اب تک پاکستان میں مجموعی طور پر 30 کیسز رپورٹ ہو چکے ہیں۔ اس لاعلاج بیماری کے خاتمے کے لیے حکومتِ پاکستان نے شراکت داروں کی معاونت سے 'نیشنل ایمرجنسی ایکشن پلان 2025–26' کے تحت 'روڈ میپ ٹو زیرو' تیار کیا ہے، جس کا بنیادی مقصد ملک بھر میں پولیو کی منتقلی کو روکنا ہے۔ ہر قومی انسدادِ پولیو مہم میں پانچ سال سے کم عمر کے 4 کروڑ 50 لاکھ سے زائد بچوں کو ہدف بنایا جاتا ہے، جس میں 4 لاکھ سے زائد فرنٹ لائن ورکرز شامل ہیں، جو کمیونٹی تک پہنچنے اور ویکسین فراہم کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
یہ شراکت داری محض مالی امداد سے کہیں بڑھ کر ہے؛ یہ یکجہتی اور مشترکہ مقصد کی علامت ہے،" محترمہ عائشہ رضا فاروق، وزیرِاعظم کی فوکل پرسن برائے انسدادِ پولیو نے کہا۔ "ویکسین کی ہر خوراک اور جاپان کے تعاون سے کی جانے والی ہر کوشش ہمیں پولیو سے پاک پاکستان کے مزید قریب لاتی ہے۔ ہم اپنے پروگرام اور فرنٹ لائن ورکرز پر جاپان کے مسلسل اعتماد کے لیے تہہ دل سے شکر گزار ہیں۔
پاکستان میں جاپان کے سفیر، محترم اکاماتسو سوچی، نے پاکستان کی صحت کی ترجیحات کے لیے جاپان کے طویل المدتی عزم کا اعادہ کیا۔ انہوں نے کہا: "جاپان ہمیشہ یہ یقین رکھتا ہے کہ بچوں کو قابلِ روک تھام بیماریوں سے بچانا کسی قوم کے مستقبل میں سب سے اہم سرمایہ کاری ہے۔" انہوں نے مزید کہا: "اس تعاون کے ذریعے ہم پاکستان، یونیسیف اور تمام شراکت داروں کے ساتھ کھڑے ہونے کے اپنے عزم کو دہرایا ہے، جو پولیو کے خاتمے کے ہمارے مشترکہ مقصد کے لیے انتھک محنت کر رہے ہیں۔"
نئی دستخط شدہ گرانٹ پولیو ویکسین کی خریداری اور ترسیل کے لیے پاکستان انسداد پولیو پروگرام کو اہم مالی معاونت فراہم کرے گی، جس سے پولیو وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے اور حالیہ برسوں میں حاصل شدہ کامیابیوں کو برقرار رکھنے میں جاری اقدامات کو تقویت ملے گی۔
"ہم حکومتِ پاکستان کے اس پختہ عزم کی تعریف کرتے ہیں کہ ہر بچے کو پولیو ویکسین فراہم کی جائے،" جناب نوآکی میاتا، جائیکا کے پاکستان میں سینئر نمائندے نے کہا۔ "ویکسین بچوں اور کمیونٹیز کے تحفظ کے سب سے مؤثر ذرائع میں سے ایک ہیں، اور ہمیں یقین ہے کہ یہ معاونت فرنٹ لائن ورکرز کی لگن اور والدین و کمیونٹیز کی شمولیت کے ذریعے مؤثر طریقے سے استعمال ہوگی۔ ہم پولیو سے پاک پاکستان کے حصول کے لیے مسلسل پیش رفت کے منتظر ہیں۔"
یہ نئی مالی معاونت عالمی صحت کے مشترکہ اہداف کے حصول میں مضبوط شراکت داری کی اہمیت کو بھی اجاگر کرتی ہے۔
محترمہ پیرنیلا آئرنسائیڈ، یونیسف کی پاکستان میں نمائندہ نے کہا: "جاپان کی معاونت پاکستان میں پولیو کے خاتمے کی پیشرفت میں کلیدی کردار ادا کرتی رہی ہے۔ یہ شراکت ہر بچے تک ویکسین پہنچانے کو یقینی بنانے میں مدد دے گی، چاہے وہ کہیں بھی رہتے ہوں۔ ہم یونیسیف، حکومت پاکستان اور ملک بھر کی کمیونٹیز کے ساتھ بچوں کے تحفظ، صحت کے نظام کی مضبوطی، اور پولیو سے پاک مستقبل کے لیے جاپان کی شراکت کو انتہائی قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔’’
جاپان کی حکومت پاکستان میں پولیو کے خاتمے کی کوششوں میں دیرینہ شراکت دار رہی ہے۔ 1996 سے، جاپان نے یونیسیف کے ذریعے پاکستان بھر کے لاکھوں بچوں کی حفاظت کے لیے 245 ملین امریکی ڈالر سے زائد گرانٹس اور قرضے فراہم کیے ہیں۔
نوٹ برائے ایڈیٹر:
پولیو سے پانچ سال تک کے عمر کے بچے متاثر ہوتے ہیں۔اس بیماری سے بچے عمر بھر کیلئے معذور ہو جاتے ہیں۔ حتیٰ کہ بچوں کی موت بھی واقع ہو جاتی ہے۔ اس موذی مرض سے بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلوا کر چھٹکارا حاصل کیا جاسکتا ہے۔ پانچ سال سے کم عمر بچوں کو پولیو قطرے پلوا کر اس موذی وائرس کو پھیلنے سے بچایا جاسکتا ہے۔ بار بار پولیو قطرے پلوانے سے دنیا کے تمام ممالک پولیو سے پاک ہو چکے ہیں۔ انسداد پولیو مہم میں بڑھ چڑھ حصہ لینا ہم سب کا قومی فریضہ ہے۔
مزید معلومات کیلئے رابطہ کریں:
For further information, please contact: Mr. Syed Farhan Shah, Public Relations Officer, NEOC, +923165011808, syed.farhanshah1990@gmail.com.