پاکستان انسدادِپولیو پروگرام (PEI) ضلع ہنگو میں پولیو ڈیوٹی پر مامور پولیس سیکیورٹی اسکواڈ پر ہونے والے دہشت گرد حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتا ہے، جو 13 اپریل 2026 کو پیش آیا۔ اس افسوسناک واقعے میں ایک پولیس اہلکار کی شہادت جبکہ چار دیگر اہلکار زخمی ہوئے۔
"ہم قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں پر ہونے والے اس بلاجواز حملے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہیں جو ہمارے بچوں کے محفوظ مستقبل کے لیے خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔ گزشتہ روز ایک پولیس اہلکار کی شہادت ایک گہرا صدمہ ہے اور اس تلخ حقیقت کی یاد دہانی بھی ہے کہ ہمارے سیکیورٹی اہلکار اور فرنٹ لائن ورکرز کس قدر خطرات کا سامنا کرتے ہیں۔ پاکستان انسدادِ پولیو پروگرام شہداء اور زخمیوں کے اہل خانہ سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کرتا ہے اور اس قومی مشن کے لیے خدمات انجام دینے والے تمام قانون نافذ کرنے والے اداروں اور فرنٹ لائن ورکرز کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اعادہ کرتا ہے۔"
— محترمہ عائشہ رضا فاروق، وزیراعظم کی فوکل پرسن برائے انسدادِ پولیو
قانون نافذ کرنے والے ادارے ملک بھر میں گھر گھر جا کر بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلانے والی ٹیموں کے تحفظ کے لیے غیر معمولی جرات اور ثابت قدمی کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ پاکستان پولیو پروگرام ان اداروں کی مکمل حمایت کا اعادہ کرتا ہے اور ان کی بہادری کو خراجِ تحسین پیش کرتا ہے، جو شدید خطرات کے باوجود پولیو کے خاتمے کی کوششوں کو تسلسل کے ساتھ جاری رکھے ہوئے ہیں۔
نوٹ برائے ایڈیٹر:
پولیو سے پانچ سال تک کے عمر کے بچے متاثر ہوتے ہیں۔اس بیماری سے بچے عمر بھر کیلئے معذور ہو جاتے ہیں۔ حتیٰ کہ بچوں کی موت بھی واقع ہو جاتی ہے۔ اس موذی مرض سے بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلوا کر چھٹکارا حاصل کیا جاسکتا ہے۔ پانچ سال سے کم عمر بچوں کو پولیو قطرے پلوا کر اس موذی وائرس کو پھیلنے سے بچایا جاسکتا ہے۔ بار بار پولیو قطرے پلوانے سے دنیا کے تمام ممالک پولیو سے پاک ہو چکے ہیں۔ انسداد پولیو مہم میں بڑھ چڑھ حصہ لینا ہم سب کا قومی فریضہ ہے۔
مزید معلومات کیلئے رابطہ کریں
:
For further information, please contact: Mr. Syed Farhan Shah, Public Relations Officer, NEOC, +923165011808, syed.farhanshah1990@gmail.com