اسلام آباد، 13 اپریل 2026: حکومتِ پاکستان کی قیادت میں پاکستان انسدادِ پولیو پروگرام نے آج سال کی دوسری ملک گیر پولیو مہم کا آغاز کر دیا ہے، جس کا ہدف ملک بھر میں پانچ سال سے کم عمر کے 4 کروڑ 50 لاکھ سے زائد بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلانا ہے۔

13 سے 19 اپریل تک جاری رہنے والی اس مہم کے دوران 4 لاکھ سے زائد فرنٹ لائن ہیلتھ ورکرز پنجاب، سندھ، خیبر پختونخوا، بلوچستان، گلگت بلتستان، آزاد جموں و کشمیر اور اسلام آباد میں گھر گھر جا کر بچوں کو ویکسین فراہم کریں گے، تاکہ دور دراز اور زیادہ خطرے سے دوچار علاقوں سمیت ہر بچے تک رسائی کو یقینی بنایا جا سکے۔

بچوں کی مجموعی صحت اور قوتِ مدافعت کو مزید بہتر بنانے کے لیے اس مہم کے دوران وٹامن اے کی اضافی خوراک بھی فراہم کی جائے گی۔ اس کے علاوہ، یہ مہم افغانستان کے ساتھ ہم آہنگی میں بھی جاری ہے، جس کا مقصد سرحد پار وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے مربوط اور مشترکہ اقدامات کو فروغ دینا ہے۔

پاکستان نے نمایاں پیش رفت حاصل کی ہے۔ سال 2026 میں پولیو وائرس کی نشاندہی 87 میں سے 23 اضلاع میں ہوئی ہے، جبکہ سال 2025 میں یہ وائرس 82 اضلاع میں پایا گیا تھا۔ اسی طرح ماحولیاتی نمونوں میں مثبت نتائج کی تعداد میں بھی نمایاں کمی واقع ہوئی ہے، جو 2025 میں 651 تھی جبکہ 2026 میں اب تک یہ تعداد 40 تک رہ گئی ہے۔

اس نمایاں پیش رفت کے باوجود چیلنجز برقرار ہیں۔ پاکستان میں سال 2025 کے دوران پولیو کے 31 کیسز رپورٹ ہوئے، جبکہ 2026 میں اب تک سندھ کے ضلع سجاول سے ایک کیس کی تصدیق ہو چکی ہے۔ یہ کیسز اس امر کی یاددہانی ہیں کہ جب تک دنیا میں کہیں بھی یہ وائرس موجود ہے، پاکستان کے بچے اس کے خطرے سے محفوظ نہیں ہو سکتے۔

وزیراعظم کی فوکل پرسن برائے انسدادِ پولیو، عائشہ رضا فاروق نے کہا:

"پاکستان پولیو کے خاتمے کے پہلے سے کہیں زیادہ قریب ہے، تاہم یہ مرحلہ سب سے زیادہ اہم بھی ہے۔ پولیو ایک ایسی بیماری ہے جو عمر بھر کی معذوری کا باعث بنتی ہے اور اس کا کوئی علاج نہیں، مگر اس سے بچاؤ ممکن ہے۔ یہ مہم اس بات کو یقینی بنانے کے لیے ہے کہ پانچ سال سے کم عمر کے ہر بچے کو دو قطرے پلائے جائیں تاکہ باقی ماندہ خلا کو پُر کرکے ہم اپنے ہدف کے حصول کے قریب پہنچ سکیں۔"

ویکسینیشن کے ذریعے ہر بچے کا تحفظ ہی وائرس کے خاتمے کا سب سے محفوظ اور مؤثر طریقہ ہے۔ حکومتِ پاکستان تمام والدین اور سرپرستوں سے اپیل کرتی ہے کہ وہ ویکسینیشن ٹیموں کے ساتھ بھرپور تعاون کریں اور اس مہم سمیت ہر مہم کے دوران اپنے پانچ سال سے کم عمر کے بچوں کو لازمی طور پر پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلوائیں۔

نوٹ برائے ایڈیٹر:

پولیو سے پانچ سال تک کے عمر کے بچے متاثر ہوتے ہیں۔اس بیماری سے بچے عمر بھر کیلئے معذور ہو جاتے ہیں۔ حتیٰ کہ بچوں کی موت بھی واقع ہو جاتی ہے۔ اس موذی مرض سے بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلوا کر چھٹکارا حاصل کیا جاسکتا ہے۔ پانچ سال سے کم عمر بچوں کو پولیو قطرے پلوا کر اس موذی وائرس کو پھیلنے سے بچایا جاسکتا ہے۔ بار بار پولیو قطرے پلوانے سے دنیا کے تمام ممالک پولیو سے پاک ہو چکے ہیں۔ انسداد پولیو مہم میں بڑھ چڑھ حصہ لینا ہم سب کا قومی فریضہ ہے۔

مزید معلومات کیلئے رابطہ کریں

:

For further information, please contact: Mr. Syed Farhan Shah, Public Relations Officer, NEOC, +923165011808, syed.farhanshah1990@gmail.com