اسلام آباد، 19 نومبر 2025 — قومی حفاظتی ٹیکہ جات نظام کو مزید مؤثر بنانے کے ایک اہم قدم کے طور پر توسیعی پروگرام برائے حفاظتی ٹیکہ جات اور پاکستان انسدادِ پولیو پروگرام نے ای پی آئی–پی ای آئی ہم آہنگی فریم ورک پر باضابطہ طور پر دستخط کر دیے ہیں۔
یہ فریم ورک نیشنل ایمرجنسی آپریشنز سینٹر (NEOC) میں منعقدہ اجلاس کے دوران پیش کیا گیا اور منظور کیا گیا، جس کی صدارت وزیرِاعظم کی فوکل پرسن برائے انسدادِ پولیو محترمہ عائشہ رضا فاروق نے کی۔ اجلاس میں ڈی جی ایف ڈی آئی ڈاکٹر صوفیہ یونس اور این ای او سی–پی ای آئی کے نیشنل کوآرڈینیٹر بھی شریک تھے۔ اس اقدام نے اعلیٰ سطح کی قیادت کے بھرپور عزم کو اُجاگر کیا اور بچوں کی صحت کے بہتر نتائج کے لیے مشترکہ اور مربوط اقدامات کے عزم کو مزید مضبوط کیا۔
قیادت نے ای پی آئی–پی ای آئی سِینرجی ٹاسک ٹیم کی کاوشوں کو بھی سراہا اور اعتراف کیا، جس کی سربراہی نیشنل ٹیکنیکل فوکل پرسن پی ای آئی کر رہے ہیں، جنہوں نے مسلسل فالو اپ اور مؤثر حکمتِ عملی کے ذریعے اس اہم سنگِ میل کی کامیاب تکمیل کو یقینی بنایا۔
’’یہ ہم آہنگی ایک نئے دور کا آغاز ہے، جس کے ذریعے ہر بچے تک مؤثر انداز میں زندگی بچانے والی ویکسین کی بروقت فراہمی کو یقینی بنایا جائے گا، ‘‘وزیراعظم کی فوکل پرسن برائے انسدادِ پولیو نے اس پیش رفت کو سراہتے ہوئے کہا۔
ڈی جی ایف ڈی آئی نے اس بات پر زور دیا کہ یہ فریم ورک منصوبہ بندی کو بہتر بنائے گا، آپریشنز کو مربوط کرے گا، اور خصوصاً ہائی رسک علاقوں میں حفاظتی ٹیکہ جات تک رسائی کو بہتر بنائے گا۔
نیشنل کوآرڈی نیٹر (NEOC–PEI) نے زور دیا کہ قریبی ہم آہنگی پولیو کے خلاف حاصل شدہ کامیابیوں کو برقرار رکھنے، قوتِ مدافعت میں موجود خلا کو پُر کرنے، اور ملک بھر کی کمیونٹیز کے لیے بہتر نتائج فراہم کرنے میں مددگار ثابت ہوگی۔
ای پی آئی–پی ای آئی فریم ورک کا مقصد افرادی قوت کو بہتر بنانا، نگرانی کو مضبوط کرنا، آؤٹ ریچ کو وسیع کرنا، اور ملک بھر میں مربوط خدمات کی فراہمی کے ذریعے حفاظتی ٹیکہ کاری کی کوریج کو فروغ دینا ہے۔ اس مضبوط تعاون کے ذریعے، این ای او سی اور ایف ڈی آئی ہر بچے کو پولیو سمیت ویکسین سے قابلِ بچاؤ بیماریوں سے محفوظ رکھنے کے اپنے عزم کی تجدید کرتے ہیں۔
*******
نوٹ برائے ایڈیٹر:
پولیو سے پانچ سال تک کے عمر کے بچے متاثر ہوتے ہیں۔اس بیماری سے بچے عمر بھر کیلئے معذور ہو جاتے ہیں۔ حتیٰ کہ بچوں کی موت بھی واقع ہو جاتی ہے۔ اس موذی مرض سے بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلوا کر چھٹکارا حاصل کیا جاسکتا ہے۔ پانچ سال سے کم عمر بچوں کو پولیو قطرے پلوا کر اس موذی وائرس کو پھیلنے سے بچایا جاسکتا ہے۔ بار بار پولیو قطرے پلوانے سے دنیا کے تمام ممالک پولیو سے پاک ہو چکے ہیں۔ انسداد پولیو مہم میں بڑھ چڑھ حصہ لینا ہم سب کا قومی فریضہ ہے۔
مزید معلومات کیلئے رابطہ کریں:
For further information, please contact: Mr. Syed Farhan Shah, Public Relations Officer, NEOC, +923165011808, syed.farhanshah1990@gmail.com.