اسلام آباد، 29 اکتوبر 2025 – وزیرِ اعظم کی فوکل پرسن برائے انسدادِ پولیو، سینیٹر عائشہ رضا فاروق، کو گلوبل پولیو ایریڈیکیشن انیشیٹو (GPEI) کی جانب سے پاکستان کی پہلی "جینڈر چیمپیئن" مقرر کیا گیا ہے۔ یہ اعزاز اُن کی قیادت، پبلک ہیلتھ میں صنفی مساوات کے فروغ اور خواتین کو بااختیار بنانے کے لیے اُن کی غیر متزلزل وابستگی کے اعتراف کے طور پر دیا گیا ہے۔
یہ تقرری محترمہ عائشہ کی اُن مسلسل کاوشوں کا اعتراف ہے جو وہ پاکستان کے انسدادِ پولیو پروگرام میں صنفی نقطۂ نظر کو مؤثر طور پر شامل کرنے اور عملدرآمد کے تمام مراحل میں خواتین کی قیادت اور اُن کے کردار کو مضبوط بنانے کے لیے کر رہی ہیں۔ ملک بھر میں چار لاکھ سے زائد فرنٹ لائن ہیلتھ ورکرز، جن میں تقریباً ساٹھ فیصد خواتین شامل ہیں، ہر بچے تک زندگی بچانے والی پولیو ویکسین پہنچانے کے قومی مشن کی اساس ہیں۔ اِن کی ہمت، اعتماد اور عزم پولیو کے خاتمے کی جدوجہد میں پاکستان کی کامیابی کی ضمانت ہیں۔
محترمہ عائشہ نے کہا، "میرے لیے پولیو کے خلاف جنگ صرف بچوں کی صحت کے تحفظ تک محدود نہیں، بلکہ یہ مساوات، مواقع اور بااختیار بنانے سے بھی متعلق ہے۔ ہر روز میں دیکھتی ہوں کہ خواتین اس مشن کی اصل محرک ہیں، ویکسینیشن ٹیموں کی قیادت کرتی ہیں، اپنی کمیونٹیز میں رکاوٹیں دور کر رہی ہیں، اور صحت مند مستقبل کی امید کے ساتھ آگے بڑھ رہی ہیں۔"
محترمہ عائشہ رضا فاروق کو گلوبل پولیو ایریڈیکیشن انیشیٹو (GPEI) کی جانب سے دیا گیا یہ اعزاز صنفی مساوات اور صحت کے نتائج کے باہمی تعلق کے ساتھ ساتھ عالمی صحت میں شمولیتی حکمتِ عملیوں کے فروغ کے حوالے سے پاکستان کی بڑھتی ہوئی قیادت کو اجاگر کرتا ہے۔ جینڈر چیمپیئن کی حیثیت سے محترمہ فاروق نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ وہ صحت کے شعبے میں خواتین کی قیادت کو مضبوط بنانے، فرنٹ لائن خواتین ورکرز کی آواز کو مزید اُجاگر کرنے، اور پروگرام کے تمام مراحل میں صنفی شمولیت اور جوابدہی کو یقینی بنانے کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھیں گی۔
یہ تقرری، 2019 میں شروع کی گئی جی پی ای آئی (GPEI) کی صنفی مساوات کی حکمتِ عملی پر مبنی ہے، جس کا مقصد ویکسینیشن میں صنفی رکاوٹوں کو دور کرنا، تمام سطحوں پر خواتین کی نمائندگی کو یقینی بنانا، اور صحت میں مساوات کے بنیادی اصول کے طور پر صنفی برابری کو فروغ دینا ہے۔ محترمہ فاروق کا پاکستان کی پہلی جینڈر چیمپیئن کے طور پر کردار، نہ صرف پولیو کے خاتمے کی عالمی جدوجہد میں پاکستان کی قیادت کو ظاہر کرتا ہے بلکہ ہر بچے کے لیے ایک منصفانہ اور بہتر مستقبل کے عزم کو بھی نمایاں کرتا ہے۔
نوٹ برائے ایڈیٹر:
پولیو سے پانچ سال تک کے عمر کے بچے متاثر ہوتے ہیں۔ اس بیماری سے بچے عمر بھر کیلئے معذور ہو جاتے ہیں۔ حتیٰ کہ بچوں کی موت بھی واقع ہو جاتی ہے۔ اس موذی مرض سے بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلوا کر چھٹکارا حاصل کیا جاسکتا ہے۔ پانچ سال سے کم عمر بچوں کو پولیو قطرے پلوا کر اس موذی وائرس کو پھیلنے سے بچایا جاسکتا ہے۔ بار بار پولیو قطرے پلوانے سے دنیا کے تمام ممالک پولیو سے پاک ہو چکے ہیں۔ انسداد پولیو مہم میں بڑھ چڑھ حصہ لینا ہم سب کا قومی فریضہ ہے۔
مزید معلومات کیلئے رابطہ کریں:
Mr. Syed Farhan Shah Bukhari, Public Relations Officer, NEOC, +923165011808, syed.farhanshah1990@gmail.com