وزیرِاعظم شہباز شریف نے ورلڈ پولیو ڈے کے موقع پر پاکستان سے پولیو کے مکمل خاتمے کے عزم کی تجدید کی۔ انہوں نے والدین سے اپیل کی کہ وہ ہر مہم میں اپنے بچوں کو پولیو ویکسین لازمی پلوائیں تاکہ وہ عمر بھر کی معذوری سے محفوظ رہیں۔
اسلام آباد، 24 اکتوبر 2025ء – ورلڈ پولیو ڈے کے موقع پر وزیرِاعظم پاکستان شہباز شریف نے ملک بھر میں لاکھوں بچوں کو زندگی بھر کی معذوری سے محفوظ رکھنے کے لیے کام کرنے والے 4 لاکھ سے زائد پولیو ورکرز کی خدمات کو سراہا۔ وزیرِاعظم نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان پولیو وائرس کا مکمل خاتمہ کر سکتا ہے اور کرے گا، اور قوم سے اپیل کی کہ وہ اس عالمی صحت کے خطرے کو ختم کرنے میں بھرپور کردار ادا کرے۔
وزیرِاعظم ہاؤس میں منعقدہ تقریب کے دوران، وزیرِاعظم شہباز شریف نے پاکستان کی پولیو کے خلاف جنگ میں فرنٹ لائن پر کام کرنے والی 'غیر معمولی خواتین و حضرات' کو خراجِ تحسین پیش کیا، جنہوں نے ایک سال میں متعدد مہمات کے دوران 45 ملین سے زائد بچوں کی حفاظت کی۔
ان محنتی ورکرز اور حکومت و بین الاقوامی شراکت داروں کی مربوط کوششوں کے نتیجے میں، 1994 سے پاکستان میں پولیو کے کیسز میں شاندار 99.6 فیصد کمی واقع ہوئی ہے — جو سالانہ تقریباً 20,000 کیسز سے کم ہو کر 2024 میں 74 کیسز تک پہنچ گئے اور اس سال اب تک 30 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔
وزیراعظم نے کہا، 'پولیو ورکرز کی خدمات پاکستان کی طاقت اور ہمدردی کی بہترین عکاسی کرتی ہیں۔ حکومت اور پاکستانی عوام کی جانب سے میں تمام فرنٹ لائن ہیلتھ ورکرز، جو ہمارے قومی ہیروز ہیں، کی بے مثال کوششوں کو دل کی گہرائیوں سے سراہتا ہوں، جن کی انتھک محنت ہمارے بچوں کی صحت کے تحفظ کے لیے مسلسل جاری ہے۔'
اس موقع پر مہمان خصوصی کے طور پر، وزیر اعظم نے پولیو پروگرام میں غیر معمولی خدمات اور شاندار کارکردگی کے اعتراف میں اپنے اپنے صوبے اور علاقے کی جانب سے نامزد 14 پولیو ورکرز کو شیلڈز سے نوازا۔
وزیراعظم نے کہا کہ پیش رفت کے باوجود پاکستان کو پولیو کے خاتمے کے لیے آخری مرحلے تک جانا ہوگا اور والدین سے اپیل کی کہ ہر مہم میں اپنے بچوں کو پولیو ویکسین لازمی پلوائیں تاکہ وہ زندگی بھر کی معذوری سے محفوظ رہیں۔
انہوں نے کہا، 'ورلڈ پولیو ڈے ہمیں پاکستان کی شاندار کامیابیوں کی یاد دلاتا ہے اور اس ذمہ داری کی بھی یاد دہانی کراتا ہے کہ ہر بچے کو اس بیماری سے محفوظ بنایا جائے۔ پولیو کا ایک بھی کیس یہ ظاہر کرتا ہے کہ ہمارا کام ابھی مکمل نہیں ہوا۔ لہٰذا، پولیو کا خاتمہ محض صحتِ عامہ کا ہدف نہیں بلکہ ایک قومی ذمہ داری ہے جسے ہر صورت مکمل کرنا ضروری ہے۔' وزیر اعظم نے پولیو کے خاتمے کے لیے حکومت کی مکمل وابستگی کا اظہار بھی کیا۔
ہر قومی پولیو مہم کے دوران ملک بھر میں 4 لاکھ سے زائد پولیو ورکرز، جن میں 60 فیصد خواتین شامل ہیں، گھر گھر جا کر ہر بچے تک ویکسین کی رسائی کو یقینی بناتے ہیں۔
وزیراعظم کی قیادت میں منعقدہ ورلڈ پولیو ڈے کی تقریب میں ان محنتی اور باہمت ہیلتھ ورکرز کی خدمات کو سراہا گیا جو پاکستان کے بچوں کو پولیو سے محفوظ بنا کر ایک صحت مند مستقبل کو یقینی بنا رہے ہیں۔
*******
نوٹ برائے ایڈیٹر:
پولیو سے پانچ سال تک کے عمر کے بچے متاثر ہوتے ہیں۔اس بیماری سے بچے عمر بھر کیلئے معذور ہو جاتے ہیں۔ حتیٰ کہ بچوں کی موت بھی واقع ہو جاتی ہے۔ اس موذی مرض سے بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلوا کر چھٹکارا حاصل کیا جاسکتا ہے۔ پانچ سال سے کم عمر بچوں کو پولیو قطرے پلوا کر اس موذی وائرس کو پھیلنے سے بچایا جاسکتا ہے۔ بار بار پولیو قطرے پلوانے سے دنیا کے تمام ممالک پولیو سے پاک ہو چکے ہیں۔ انسداد پولیو مہم میں بڑھ چڑھ حصہ لینا ہم سب کا قومی فریضہ ہے۔
مزید معلومات کیلئے رابطہ کریں:
For further information, please contact: Mr. Syed Farhan Shah, Public Relations Officer, NEOC, +923165011808, syed.farhanshah1990@gmail.com.