اسلام آباد، 17 جولائی 2025 - حکومتِ پاکستان کے ایک اعلیٰ سطحی وفد نے رواں ہفتے جنیوا میں انڈیپنڈنٹ مانیٹرنگ بورڈ کے اجلاس میں شرکت کی اور ملک میں پولیو کے دوبارہ پھیلاؤ کے تناظر میں اس سنگین عالمی و علاقائی خطرے کے خاتمے کے لیے پاکستان کے پختہ عزم کا اعادہ کیا۔ وفد نے پولیو کے خاتمے کی جاری کوششوں، حاصل شدہ پیش رفت، اور باقی ماندہ چیلنجز سے نمٹنے کے لیے مرتب کردہ حکمت عملیوں پر بھی روشنی ڈالی۔
انڈیپنڈنٹ مانیٹرنگ بورڈ، جو گلوبل پولیو ایریڈیکیشن انیشیٹو (GPEI) کا ایک غیرجانبدار جائزہ اور نگرانی کا ادارہ ہے، 14 سے 17 جولائی تک جنیوا میں منعقدہ اجلاس میں دنیا بھر میں پولیو کے خاتمے کی پیش رفت کا جائزہ لے رہا ہے، جس میں پولیو سے متاثرہ آخری دو ممالک — پاکستان اور افغانستان — میں پیش رفت اور درپیش چیلنجز بھی زیرِ غور لائے گئے۔
اعلیٰ سطحی وفد میں وزیر مملکت برائے صحت ڈاکٹر ملک مختار احمد بھرتھ، وزیر اعظم کی فوکل پرسن برائے انسداد پولیو عائشہ رضا فاروق، چیف سیکریٹری سندھ آصف حیدر شاہ، چیف سیکریٹری پنجاب زاہد اختر زمان، چیف سیکریٹری خیبرپختونخوا شہاب علی شاہ، ایڈیشنل چیف سیکریٹری بلوچستان زاہد سلیم، اور کوآرڈینیٹر نیشنل ایمرجنسی آپریشنز سینٹر محمد انور الحق شامل تھے۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر مملکت ڈاکٹر بھرتھ نے کہا کہ پاکستان، دنیا کے صرف دو پولیو سے متاثرہ ممالک میں سے ایک ہونے کے ناطے، اس خطرے کے مکمل خاتمے میں اپنے اہم کردار سے بخوبی واقف ہے۔
"گزشتہ برس کے دوران درپیش پیچیدہ چیلنجز اور دیگر ترجیحات کے باوجود، حکومتِ پاکستان نے وزیر اعظم کی قیادت میں پولیو کے خاتمے کو قومی اتفاق رائے پر مبنی ایک ترجیحی مشن کے طور پر جاری رکھا ہے۔"
انہوں نے کہا کہ وفاق، صوبوں، آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان کی سطح پر "حکومت کی جانب سے تیار کردہ حکمتِ عملی" کو ازسرِ نو فعال کیا گیا ہے تاکہ انسدادِ پولیو مہمات کو مکمل معاونت فراہم کی جا سکے۔ وزیرِ مملکت نے اس عزم کا بھی اعادہ کیا کہ وزارتِ صحت تمام باقی ماندہ چیلنجز سے نمٹنے اور معمول کے حفاظتی ٹیکہ جات کی کوریج بڑھانے کے لیے بھرپور معاونت فراہم کرتی رہے گی۔
انہوں نے کہا: "گزشتہ ایک سال کے دوران، میں نے اپنی ٹیموں کو پولیو کے دوبارہ پھیلاؤ پر قابو پانے کے لیے مضبوط نگرانی، مؤثر جوابدہی اور کمیونٹی شمولیت کے ساتھ ساتھ اپنے بہادر فرنٹ لائن ورکرز کی غیر معمولی لگن کے تحت سرگرم عمل دیکھا ہے،" ڈاکٹر بھرت نے کہا۔ "یہ حکمت عملی ہماری نمایاں پیشرفت کا باعث بنی ہے، اور مجھے پورا یقین ہے کہ اسی جذبے اور عزم کے ساتھ ہم باقی چیلنجز پر قابو پاتے ہوئے پولیو سے پاک پاکستان کا خواب ضرور پورا کریں گے۔
وزیر اعظم کی فوکل پرسن برائے انسداد پولیو، عائشہ رضا فاروق نے 2024-25 کے نیشنل ایمرجنسی ایکشن پلان کے تحت پاکستان کی پیش رفت کا ذکر کیا۔ انہوں نے بتایا کہ صوبوں کے ساتھ قریبی رابطہ، حکومت کی سطح پر تمام پولیو سرگرمیوں کی مؤثر نگرانی، اضلاع کی سطح پر بہتری کے لیے ہدفی منصوبے، اور فعال نگرانی کی بدولت پولیو مہمات کے معیار میں نمایاں بہتری آئی ہے، ویکسین سے محروم رہ جانے والے بچوں کی تعداد میں کمی ہوئی ہے اور وائرس مخصوص علاقوں تک محدود ہوا ہے۔
انہوں نے کہا: "رواں سال کراچی، کوئٹہ اور پشاور بلاکس سے پولیو کے کیسز کی عدم موجودگی اس بات کی مثبت علامت ہے کہ ہماری متعدد اعلیٰ معیار کی مہمات نے بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے لیے مؤثر قوت مدافعت فراہم کی ہے۔ تاہم، سیوریج کے نمونوں میں وائرس کی مسلسل موجودگی اس بات کی یاد دہانی ہے کہ ہر بچے کی ویکسینیشن اور حفاظت کو یقینی بنانا اب بھی ضروری ہے۔"
انہوں نے جنوبی خیبرپختونخوا میں درپیش پیچیدہ صورتِ حال، ویکسین سے متعلق تحفظات اور آبادی کی نقل و حرکت جیسے عوامل کو بچوں تک مستقل رسائی میں بڑی رکاوٹیں قرار دیا۔ انہوں نے بتایا کہ اس خطے میں انسدادِ پولیو پروگرام، قانون نافذ کرنے والے اداروں، ضلعی انتظامیہ، مقامی کمیونٹیز اور توسیعی پروگرام برائے حفاظتی ٹیکہ جات کے ساتھ مل کر رسائی کو بہتر بنانے اور اعتماد کی بحالی کے لیے کام کر رہا ہے۔
"پاکستان نے متعدد مواقع پر یہ ثابت کیا ہے کہ وہ پولیو وائرس کو شکست دینے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے، تاہم موجودہ کامیابیوں کو برقرار رکھنے کے لیے ہمیں مسلسل ابھرتے ہوئے چیلنجز کا سامنا ہے۔ مجھے یقین ہے کہ بے مثال حکومتی سرپرستی، سیاسی و سیکیورٹی تعاون، اور تمام متعلقہ فریقین کی مشترکہ کوششوں سے، جن کی قیادت قابل چیف سیکریٹریز کر رہے ہیں، ہم جلد ہی موجودہ صورتحال پر قابو پا کر پولیو سے پاک پاکستان کی راہ ہموار کریں گے۔”
انڈیپنڈنٹ مانیٹرنگ بورڈ (IMB) نے پولیو کے خاتمے کے لیے حکومتِ پاکستان کے غیر معمولی سیاسی عزم و تعاون کو قابلِ تحسین قرار دیا۔ بورڈ کی جانب سے سفارشات پر مشتمل تفصیلی رپورٹ جلد جاری کی جائے گی۔
انڈیپنڈنٹ مانیٹرنگ بورڈ (IMB) عالمی صحت کے ماہرین پر مشتمل ایک خودمختار اور غیرجانبدار ادارہ ہے، جو گلوبل پولیو ایریڈیکیشن انیشیٹو (GPEI) کی پولیو کے خاتمے کے لیے کی جانے والی کوششوں کا جائزہ اور نگرانی فراہم کرتا ہے۔ یہ ادارہ ہر سال پولیو سے متاثرہ اور بلند خطرے سے دوچار ممالک کی حکومتوں سے ملاقات کرتا ہے تاکہ دستیاب اعداد و شمار اور پیش رفت کا جائزہ لیا جا سکے۔ ہر اجلاس کے بعد، بورڈ ایک رپورٹ جاری کرتا ہے جس میں پولیو کے خاتمے کے ہدف کے حصول اور حکمتِ عملیوں کو بہتر بنانے سے متعلق سفارشات شامل ہوتی ہیں۔
*****
نوٹ برائے ایڈیٹر:
پولیو سے پانچ سال تک کے عمر کے بچے متاثر ہوتے ہیں۔اس بیماری سے بچے عمر بھر کیلئے معذور ہو جاتے ہیں۔ حتیٰ کہ بچوں کی موت بھی واقع ہو جاتی ہے۔ اس موذی مرض سے بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلوا کر چھٹکارا حاصل کیا جاسکتا ہے۔ پانچ سال سے کم عمر بچوں کو پولیو قطرے پلوا کر اس موذی وائرس کو پھیلنے سے بچایا جاسکتا ہے۔ بار بار پولیو قطرے پلوانے سے دنیا کے تمام ممالک پولیو سے پاک ہو چکے ہیں۔ انسداد پولیو مہم میں بڑھ چڑھ حصہ لینا ہم سب کا قومی فریضہ ہے۔
مزید معلومات کیلئے رابطہ کریں:
For further information, please contact: Mr. Syed Farhan Shah, Public Relations Officer, NEOC, +923165011808, syed.farhanshah1990@gmail.com.