اسلام آباد، 27 جون 2025 – پولیو کے خاتمے کے لیے قائم ٹیکنیکل ایڈوائزری گروپ (TAG) نے پاکستان میں انسداد پولیو کی سرگرمیوں کا تفصیلی اور جامع جائزہ مکمل کر لیا ہے۔ گروپ نے پولیو کے خاتمے کے لیے حکومتِ پاکستان کے پختہ عزم کو سراہا اور باقی ماندہ چیلنجز — جن میں پولیو وائرس کا پھیلاؤ، مہمات کے دوران رہ جانے والے بچوں کی نشاندہی اور ویکسین سے متعلق تحفظات شامل ہیں — سے مؤثر انداز میں نمٹنے کے لیے حکمتِ عملی پر مبنی تجاویز پیش کی ہیں۔
اسلام آباد میں 24 سے 26 جون تک منعقدہ اجلاس میں قومی اور بین الاقوامی ماہرین نے شرکت کی، جس کا مقصد گزشتہ چھ ماہ کے دوران پولیو کے خاتمے کی سرگرمیوں کا جائزہ لینا، قومی ایمرجنسی ایکشن پلان برائے انسدادِ پولیو (NEAP) پر پیش رفت کا تجزیہ کرنا، اور بہتری کے لیے ٹھوس سفارشات پیش کرنا تھا۔ یہ جائزہ ایک نہایت اہم موقع پر لیا گیا، جب پاکستان ایک بار پھر پولیو وائرس کے پھیلاؤ کا سامنا کر رہا ہے — سال 2024 میں 74 کیسز جبکہ 26 جون 2025 تک، 12 کیسز رپورٹ ہو چکے ہیں — اور ملک نے 2024-25 کے قومی ایمرجنسی ایکشن پلان پر عملدرآمد مکمل کر لیا ہے تاکہ وائرس کے پھیلاؤ کو روکا جا سکے۔
قومی اور صوبائی ایمرجنسی آپریشن سینٹرز برائے انسداد پولیو (EOCs) کی ٹیموں نے ٹیکنیکل ایڈوائزری گروپ (TAG) کے ماہرین کو تفصیلی بریفنگ دی، جس میں متعلقہ علاقوں میں انسداد پولیو کی جاری کوششوں، حاصل شدہ پیش رفت، نئی حکمت عملیوں، عملی خامیوں اور درپیش چیلنجز کو اجاگر کیا گیا۔
وفاقی وزیر صحت سید مصطفیٰ کمال نے افتتاحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا: "وزیراعظم کی قیادت میں، وزارتِ صحت کی جانب سے پولیو پروگرام کی راہنمائی اور عملی نگرانی مؤثر انداز میں جاری ہے، جبکہ صوبوں کے مابین رابطہ کاری میں بھی نمایاں بہتری آئی ہے۔ ہمیں بخوبی ادراک ہے کہ اس قومی مشن کی تکمیل کے لیے ہماری مربوط کوششوں کو برقرار رکھنا اور مزید مضبوط بنانا نہایت ضروری ہے۔"
ٹیکنیکل ایڈوائزری گروپ (TAG) کے مسلسل تعاون اور پاکستان کے ساتھ وابستگی پر شکریہ ادا کرتے ہوئے، وزیراعظم کی فوکل پرسن برائے انسدادِ پولیو محترمہ عائشہ رضا فاروق نے کہا کہ پولیو کے خلاف جنگ میں ٹیکنیکل ایڈوائزری گروپ کی سفارشات اور رہنمائی ہمیشہ نہایت اہم رہی ہے، اور پولیو پروگرام ان سفارشات پر عملدرآمد کو مربوط اقدامات میں ڈھالتا رہے گا۔”
انہوں نے مزید کہا: "2024-25 کے قومی ایمرجنسی ایکشن پلان کے نفاذ سے حاصل ہونے والے تجربات کی روشنی میں، آئندہ سال کے لیے ہماری حکمتِ عملی کو ٹیکنیکل ایڈوائزری گروپ کی قیمتی سفارشات کے مطابق ڈھالا جائے گا۔ ہماری اولین ترجیح مہمات کو مؤثر بنانا، حفاظتی خلا کو پُر کرنا، نگرانی اور کمیونٹی انگیجمنٹ کو بہتر بنانا، اور ویکسین سے محروم ہر بچے تک رسائی کو یقینی بنانا ہے۔ ہم ای پی آئی اور دیگر شراکت داروں کے ساتھ تعاون کو مزید وسعت دیں گے تاکہ معمول کی حفاظتی ٹیکہ کاری اور صحت کی مربوط خدمات ان کمیونٹیز تک پہنچائی جا سکیں جہاں ان کی سب سے زیادہ ضرورت ہے۔"
اجلاس میں اعلیٰ سطح کی شرکت دیکھنے میں آئی، جس میں صوبوں، گلگت بلتستان اور آزاد جموں و کشمیر کے چیف سیکریٹریز، گلوبل پولیو ایریڈیکیشن انیشیٹو (GPEI) کے شراکت دار اداروں، جیسے عالمی ادارہ صحت، روٹری انٹرنیشنل، سینٹرز فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریوینشن، یونیسیف، گیٹس فاؤنڈیشن اور گاوی کے نمائندگان شریک ہوئے۔
تفصیلی مشاورت کے بعد، ٹیکنیکل ایڈوائزری گروپ نے انسداد پولیو پروگرام میں انتظامی بہتری، مہمات کے معیار میں اضافہ، نقل مکانی کرنے والے اور ویکسین سے محروم رہ جانے والے بچوں کی ویکسینیشن، فرنٹ لائن ورکرز کی تربیت، نگرانی و جائزے کے نظام کو مؤثر بنانے اور سرویلنس کو مزید مضبوط کرنے پر زور دیا۔
……………….
نوٹ برائے ایڈیٹر:
ٹیکنیکل ایڈوائزری گروپ (TAG) گلوبل پولیو ایریڈیکیشن انیشیٹو (GPEI) کے لیے ایک خودمختار مشاورتی ادارہ ہے، جو قومی اور بین الاقوامی ماہرین پر مشتمل ہوتا ہے۔ اس گروپ کا بنیادی مقصد وزارت صحت اور گلوبل پولیو ایریڈیکیشن انیشیٹو (GPEI) کے شراکت دار اداروں کو پولیو کے خاتمے سے متعلق سرگرمیوں پر مشورے دینا اور سفارشات پیش کرنا ہے۔ ٹیکنیکل ایڈوائزری گروپ پاکستان میں پولیو کے خاتمے کی پیش رفت کا جائزہ لیتا ہے، سابقہ سفارشات پر عملدرآمد کا تجزیہ کرتا ہے، آئندہ کی منصوبہ بندی پر تبادلہ خیال کرتا ہے، اور قومی پولیو پروگرام کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے کے لیے ماہرین کی رائے اور سفارشات فراہم کرتا ہے، تاکہ اہداف کے حصول کو ممکن بنایا جا سکے۔
مزید معلومات کیلئے رابطہ کریں:
For further information, please contact: Mr. Syed Farhan Shah, Public Relations Officer, NEOC, +923165011808, syed.farhanshah1990@gmail.com.