اسلام آباد، یکم جون 2024 –  پاکستان میں رواں سال کا چوتھا پولیو کیس سندھ کے ضلع شکارپور سے رپورٹ ہوا ہے۔

قومی ادارہ صحت میں قائم انسداد پولیو لیبارٹری کے مطابق شکارپور کی یونین کونسل برکھن میں ایک 2.5 سالہ بچے سے لیے گئے نمونوں میں پولیو وائرس پایا گیا۔

متاثرہ بچے میں معذوری کی علامات 11 مئی کو ظاہر ہوئیں تھی اور بچے سے لیے گئے نمونوں میں پایا جانے والا پولیو وائرس جینیاتی طور پر سرحد پار کے وائے بی تھری اے وائرس کلسٹر سے ہے۔

یہ وائرس کلسٹر 2021 میں پاکستان سے چلا گیا تھا، تاہم افغانستان میں موجود تھا۔ گذشتہ سال یہ پولیو وائرس سرحد پار سے واپس پاکستان میں آگیا تھا۔

وزیراعظم کے کوآرڈینیٹر برائے صحت ڈاکٹر ملک مختار بھرت نے کہا کہ یہ افسوس ناک ہے کہ ایک اور پاکستانی بچہ ایک ایسی بیماری سے متاثر ہوگیا ہے جس سے ویکسین کی مدد سے باآسانی بچا جا سکتا ہے اور حکومت یہ ویکسین عوام کی دہلیز پر پہنچا رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ قومی اور صوبائی ایمرجنسی آپریشنز سینٹر نے اس کیس کی تحقیقات کے لیے ٹیم تشکیل دے دی ہے اور اس کے ساتھ ساتھ ملک کے 66 اضلاع میں تین جون سے انسداد پولیو مہم کا انعقاد بھی ہو رہا ہے تاکہ پولیو کے خلاف بچوں کی قوت مدافعت میں اضافہ کیا جا سکے۔

یہ پاکستان میں رواں سال کا چوتھا اور شکارپور میں چار سال بعد پہلا کیس ہے۔ اس سے قبل تین پولیو کیس بلوچستان سے رپورٹ ہوئے تھے۔

پانچ سال سے کم عمر کے بچوں کو پولیو وائرس سے سب سے زیادہ خطرہ ہے۔ یہ وائرس خاص طور پر ایسے بچوں کو نشانہ بناتا ہے جن میں غذائی قلت ہو یا پھر ان کی پولیو ویکسین اور حفاظتی ٹیکوں کا کورس مکمل نہ ہو۔

پاکستان پولیو پروگرام تین جون سے رواں سال کی پانچویں انسداد پولیو مہم کا انعقاد کر رہا ہے جس میں ایک کروڑ 60 لاکھ سے زائد بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلائے جائیں گے۔

والدین سے اپیل ہے کہ اپنے تمام پانچ سال سے کم عمر کے  بچوں کو اس اور آنے والے تمام مہمات میں پولیو سے بچاؤ کے قطرے ضرور پلوائیں۔

نوٹ برائے ایڈیٹر:

پولیو ایک لاعلاج بیماری ہے جس سے پانچ سال تک کی عمر کے بچوں کو سب سے زیادہ خطرہ ہے۔ اس وائرس سے بچے عمر بھر کے لیے معذور ہو سکتے ہیں، حتیٰ کہ کچھ کیسز میں بچوں کی موت بھی واقع ہو سکتی ہے۔ پانچ سال سے کم عمر کے تمام بچوں کو اس موذی مرض سے پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلوا کر بچایا جا سکتا ہے، اور وائرس کو پھیلنے سے روکا جا سکتا ہے۔ متعدد بار پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلوانے سے دنیا کے تمام ممالک پولیو سے پاک ہو چکے ہیں، جبکہ پاکستان اور افغانستان وہ واحد ممالک رہ گئے ہیں جہاں پولیو اب بھی بچوں کے لیے خطرہ ہے۔ انسداد پولیو مہم میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینا ہم سب کا قومی فریضہ ہے۔

مزید معلومات کیلئے رابطہ کریں:

Ms. Hania Naeem, Communications Officer, NEOC, +923431101988

hanianaim17@gmail.com