3 اگست 2024 – پنجاب کے ضلع چکوال میں ایک بچہ پولیو وائرس سے معذور ہو گیا ہے جس کے بعد ملک میں پولیو کیسز کی تعداد 12 ہوگئی ہے۔

قومی ادارہ صحت میں قائم انسداد پولیو لیبارٹری کے مطابق چکوال کی یونین کونسل میانی میں ایک بچے میں پولیو وائرس کی تصدیق ہوئی ہے۔ بچے میں معذوری کی اعلامات 16 جولائی کو ظاہر ہوئیں۔

وزیراعظم کے کوآرڈینیٹر برائے صحت ڈاکٹر ملک مختار بھرتھ نے کہا: ’بدقسمتی سے ہمارے ملک میں اب بھی بچے ایک ایسی بیماری سے متاثر ہو رہے ہیں جس سے پولیو ویکسین کی مدد سے بچا جاسکتا ہے اور وہ بھی ایسی ویکسین جو حکومت لوگوں کی دہلیز پر پہنچا رہی ہے۔‘

انہوں نے والدین پر زور دیا کہ وہ اپنے بچوں کے لیے ویکسین کی اہمیت کو سمجھیں اور انہیں ہر موقعے پر پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلاوئیں اور ان کے حفاظتی ٹیکوں کا کورس بھی مکمل کروائیں۔

وزیراعظم کی فوکل پرسن برائے پولیو عائشہ رضا فاروق نے کہا کہ چار سال کے بعد پنجاب سے کیس رپورٹ ہونا نہایت تشویش کی بات ہے۔

ان کا کہنا تھا: ’پولیو پروگرام اس کیس کی مکمل تحقیقات کا آغاز کر رہا ہے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ یہ وائرس ضلعے میں کیسے پہنچا اور چکوال اور اس کے گردونواح کے اضلاع میں ویکسینشن کی شرح کیا ہے۔ ان تحقیقات کی بنیاد پر پروگرام ضلعے میں پولیو مہم کے حوالے سے حکمت عملی طے کرے گا۔‘

ان کا کہنا تھا کہ پولیو پروگرام وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے ایک جامع حکمت عملی اپنا رہا ہے جو تمام صوبوں اور شراکت داروں کے ساتھ مل کر بنائی گئی ہے۔

یہ پنجاب سے اس سال کا پہلا اور چکوال میں 10 سال میں پہلا پولیو کیس ہے۔ رواں سال اب تک پاکستان سے 12 کیس رپورٹ ہو چکے ہیں، نو بلوچستان سے، دو سندھ سے اور ایک پنجاب سے۔

نیشنل ایمرجنسی آپریشنز سینٹر کے کوآرڈینیٹر کیپٹن (ر) انوار الحق نے کہا کہ پولیو وائرس ملک کے 58 اضلاع میں پہنچ چکا ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ بچوں کو اس سے کتنا زیادہ خطرہ ہے۔

انہوں نے کہا: ’ پولیو کیس کا کہیں بھی رپورٹ ہونا ہر بچے کے لیے خطرہ ہے۔ پولیو سے بچاؤ کے قطرے پچوں کو اس بیماری سے ہونے والی  عمر بھر کی معذوری سے بچا سکتے ہیں۔ پاکستان پولیو پروگرام ہر بچے تک اس ویکسین کو پہنچانے کے لیے پرعزم ہے تاکہ انہیں پولیو سے بچایا جا سکے۔‘

دوسری جانب، چار اضلاع کے ماحولیاتی نمونوں میں بھی پولیو وائرس کی تصدیق ہوئی ہے۔ نو اور 20 جولائی کے درمیان کراچی ایسٹ، کراچی کورنگی، اسلام آباد اور ملتان سے لیے گئے ماحولیاتی نمونے پولیو وائرس کے لیے مثبت تھے۔

نوٹ برائے ایڈیٹر: 

پولیو ایک لاعلاج بیماری ہے جس سے پانچ سال تک کی عمر کے بچوں کو سب سے زیادہ خطرہ ہے۔ اس وائرس سے بچے عمر بھر کے لیے معذور ہو سکتے ہیں، حتیٰ کہ کچھ کیسز میں بچوں کی موت بھی واقع ہو سکتی ہے۔ پانچ سال سے کم عمر کے تمام بچوں کو اس موذی مرض سے پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلوا کر بچایا جا سکتا ہے، اور وائرس کو پھیلنے سے روکا جا سکتا ہے۔ متعدد بار پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلوانے سے دنیا کے تمام ممالک پولیو سے پاک ہو چکے ہیں، جبکہ پاکستان اور افغانستان وہ واحد ممالک رہ گئے ہیں جہاں پولیو اب بھی بچوں کے لیے خطرہ ہے۔ انسداد پولیو مہم میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینا ہم سب کا قومی فریضہ ہے۔

مزید معلومات کیلئے رابطہ کریں:

Ms. Hania Naeem, Communications Officer, NEOC, +923431101988ا

hanianaim17@gmail.com