اسلام آباد، دو اگست 2024 – بلوچستان کے دو اضلاع میں دو بچے پولیو سے متاثر ہوئے ہیں جس کے بعد ملک میں رواں سال پولیو کیسز کی تعداد 11 ہوگئی ہے۔

قومی ادارہ صحت میں قائم انسداد پولیو لیبارٹری کے مطابق جھل مگسی کی یونین کونسل پٹری میں ایک تین سالہ بچہ اور قلعہ عبداللہ کی یونین کونسل مائی زئی میں ایک 1.5  سالہ بچہ پولیو سے متاثر ہوا ہے۔

جھل مگسی میں متاثرہ بچے میں معذوری کی اعلامات پانچ جولائی کو ظاہر ہوئیں۔ نمونوں میں پائے جانے والے پولیو وائرس کا جینیاتی تعلق وائے بی تھری اے کلسٹر سے ہے اور جولائی میں ہی اوستہ محمد سے رپورٹ ہونے والے پولیو وائرس سے منسلک ہے۔ قلعہ عبداللہ میں متاثرہ بچے میں معذوری کی اعلامات 10 جون کو ظاہر ہوئیں اور وائرس کی جینیاتی جانچ جاری ہے۔

وزیر اعظم کے کوآرڈینیٹر برائے صحت ڈاکٹر ملک مختار بھرتھ نے کہا کہ اس موذی مرض نے ایک بار پھر دو پاکستانی بچوں کو عمر بھر کے لیے معذور کر دیا ہے۔ ’یہ نہ صرف ان خاندانوں کے لیے پریشانی کا باعث ہے بلکہ ہمارے ملک کے لیے بھی جہاں اب بھی یہ وائرس موجود ہے۔‘

وزیراعظم کی فوکل پرسن برائے پولیو عائشہ رضا فاروق نے کہا کہ بلوچستان میں پولیو کے پھیلاؤ کی وجہ سے اب تک صوبے کے چھ اضلاع میں نو بچے اس وائرس سے متاثر ہو چکے ہیں۔

ان کا کہنا تھا: ’پاکستان پولیو پروگرام اس صورتحال کا ایک جامع جائزہ لے رہا ہے اور بچوں میں پولیو کے خلاف کم قوت مدافعت کو دور کرنے کے لیے حکمت عملی کی تکمیل کر رہا ہے تاکہ وہ اس بیماری سے بچے رہیں۔‘

نیشنل ایمرجنسی آپریشنز سینٹر کے کوآرڈینیٹر کیپٹن (ر) انوار الحق نے کہا کہ پولیو پروگرام کو گذشتہ ماہ میں بلوچستان میں انسداد پولیو مہمات کے جامع انعقاد میں چلینجز پیش آ رہے تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ مقامی مظاہروں اور امن و امان کی صورت حال کی وجہ سے بلوچستان کے دیگر اضلاع میں انسداد پولیو مہمات مکمل طور پر نہیں ہو سکیں جس کا نتیجہ بچوں کے پولیو سے متاثر ہونے کی صورت میں ظاہر ہو رہا ہے۔

پولیو وائرس ایک نئے ضلعے اور پہلے سے متاثرہ سات اضلاع کے ماحولیاتی نمونوں میں بھی پایا گیا ہے۔ آٹھ اور10 جولائی کے درمیان خضدار، کوئٹہ، دکی، کراچی ایسٹ، کراچی ملیر، راولپنڈی، لاہور اور گوجرانوالہ سے لیے گئے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی تصدیق ہوئی۔ 

ملک میں رواں سال 11 پولیو کیس رپورٹ ہوئے ہیں جبکہ وائرس 57  اضلاع میں پایا گیا ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ بچوں کو اس بیماری سے مسلسل خطرہ لاحق ہے۔

پاکستان پولیو پروگرام تمام والدین پر زور دیتا ہے کہ اپنے پانچ سال سے کم عمر کے تمام بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے ہر موقع پر ضرور پلوائیں تاکہ وہ عمر بھر کی معذوری پیدا کرنے والے اس وائرس سے بچے رہیں۔  

نوٹ برائے ایڈیٹر: 

پولیو ایک لاعلاج بیماری ہے جس سے پانچ سال تک کی عمر کے بچوں کو سب سے زیادہ خطرہ ہے۔ اس وائرس سے بچے عمر بھر کے لیے معذور ہو سکتے ہیں، حتیٰ کہ کچھ کیسز میں بچوں کی موت بھی واقع ہو سکتی ہے۔ پانچ سال سے کم عمر کے تمام بچوں کو اس موذی مرض سے پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلوا کر بچایا جا سکتا ہے، اور وائرس کو پھیلنے سے روکا جا سکتا ہے۔ متعدد بار پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلوانے سے دنیا کے تمام ممالک پولیو سے پاک ہو چکے ہیں، جبکہ پاکستان اور افغانستان وہ واحد ممالک رہ گئے ہیں جہاں پولیو اب بھی بچوں کے لیے خطرہ ہے۔ انسداد پولیو مہم میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینا ہم سب کا قومی فریضہ ہے۔

مزید معلومات کیلئے رابطہ کریں:

Ms. Hania Naeem, Communications Officer, NEOC, +923431101988

hanianaim17@gmail.com