پولیو اپڈیٹ – اسلام آباد – 23 جولائی 2024 – صوبہ سندھ میں پہلے سے متاثرہ دو اضلاع کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس پایا گیا ہے۔
قومی ادارہ صحت میں قائم انسداد پولیو لیبارٹری کے مطابق دو جولائی کو قمبر اور جیکب آباد سے لیے گئے سیوریج کے پانی کے نمونوں میں پولیو وائرس ملا۔
پاکستان پولیو پروگرام رواں سال چھ انسداد پولیو مہمات کا انعقاد کر چکا ہے، بشمول دو ملک گیر مہمات جن میں جنوری اور فروری میں پانچ سال سے کم عمر کے 40 لاکھ سے زائد بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلائے گئے۔
پولیو وائرس اس سال نو بچوں کو متاثر کر چکا ہے اور ملک کے 52 اضلاع میں پایا جا چکا ہے اس لیے والدین کے لیے یہ نہایت اہم ہے کہ وہ اس وائرس سے اپنے بچوں کو لاحق خطرے کو سمجھیں اور اپنے پانچ سال سے کم عمر کے تمام بچوں کو ویکسین ضرور پلوائیں۔
پولیو ایک خطرناک لاعلاج بیماری ہے جس سے بچہ عمر بھر کے لیے معذور ہو سکتا ہے۔ پولیو ویکسین کی متعدد خوراکیں ہی بچوں کو عمر بھر کی معذوری سے بچا سکتی ہیں۔ پاکستان پولیو پروگرام کی تمام والدین سے اپیل ہے کہ اپنے گھر میں پانچ سال سے کم عمر کے تمام بچوں کو متعدد بار پولیو ویکسین پلوائیں اور ان کے حفاظتی ٹیکوں کا کورس بھی مکمل کروائیں تاکہ وہ بچپن میں ہونے والی 12 خطرناک بیماریوں سے محفوظ رہ سکیں۔
نوٹ:
پولیو ایک لاعلاج بیماری ہے جس سے پانچ سال تک کی عمر کے بچوں کو سب سے زیادہ خطرہ ہے۔ اس وائرس سے بچے عمر بھر کے لیے معذور ہو سکتے ہیں، حتیٰ کہ کچھ کیسز میں بچوں کی موت بھی واقع ہو سکتی ہے۔ پانچ سال سے کم عمر کے تمام بچوں کو اس موذی مرض سے پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلوا کر بچایا جا سکتا ہے، اور وائرس کو پھیلنے سے روکا جا سکتا ہے۔ بچوں کو متعدد بار پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلوانے سے دنیا کے تمام ممالک پولیو سے پاک ہو چکے ہیں، جبکہ پاکستان اور افغانستان وہ واحد ممالک رہ گئے ہیں جہاں پولیو اب بھی بچوں کے لیے خطرہ ہے۔ انسداد پولیو مہم میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینا ہم سب کا قومی فریضہ ہے۔
مزید معلومات کیلئے رابطہ کریں:
Ms. Hania Naeem, Communications Officer, NEOC, +923431101988