اسلام آباد، 19 جولائی 2024 – بلوچستان کے ضلع ژوب سے پولیو وائرس کی تصدیق ہوئی ہے جس کے بعد ملک میں پولیو کیسز کی تعداد نو ہوگئی ہے۔
قومی ادارہ صحت میں قائم انسداد پولیو لیبارٹری کے مطابق ژوب کی یونین کونسل حسن زئی اربن ٹو سے 1.5 سالہ بچے سے لیے گئے نمونوں میں پولیو وائرس ملا۔
متاثرہ بچے میں معذوری کی اعلامات 28 جون کو ظاہر ہوئیں۔بچے سے لیے گئے نمونے میں پائے جانے والے وائرس کا تعلق اپریل میں قلعہ عبداللہ سے رپورٹ ہونے والے کیس سے ہے۔
وزیراعظم کے کوآرڈینیٹر برائے صحت ڈاکٹر ملک مختار احمد بھرتھ نے کہا کہ پولیو وائرس اب تک ملک میں نو بچوں کو متاثر کر چکا ہے جن میں سے سات صرف بلوچستان سے رپورٹ ہوئے تھے۔
انہوں نے کہا: ’اس علاقے میں پولیو کی واپسی تشویش ناک ہے اور حکومت کی پوری توجہ معیاری پولیو مہمات کا انعقاد کرنے اور حفاظتی ٹیکوں کی شرح کو بڑھانے پر مرکوز ہے تاکہ بچوں کی قوت مدافعت مضبوط ہو۔‘
وزیر اعظم کی فوکل پرسن برائے انسداد پولیو عائشہ رضا نے کہا کہ پولیو وائرس کی 5o سے زائد اضلاع میں موجودگی بچوں کے لیے مسلسل خطرہ ہے، خاص طور پر ایسے بچے جن کی قوت مدافعت ویکسین نہ لینے کی وجہ سے کمزور ہو۔
انہوں نے کہا: ’پولیو کا کوئی علاج نہیں، بچوں کو اس سے بچانے کا سب سے موثر طریقہ پولیو سے بچاؤ کی متعدد خوراکیں ہیں۔‘
یہ ملک میں رواں سال کا نواں کیس، بلوچستان سے ساتواں اور ژوب سے چار سال بعد پہلا کیس ہے۔
نیشنل ایمرجنسی آپریشنز سینٹر کے کوآرڈینیٹر محمد انوار الحق نے کہا کہ پاکستان پولیو پروگرام بچوں کو اس بیماری سے بچانے کے لیے تمام کوششیں کر رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ رواں سال اب تک چھ انسداد پولیو مہمات کا انعقاد ہو چکا ہے اور بچوں کو محفوظ رکھنے کے لیے مختلف حکمت عملی اپنا رہے ہیں۔
نوٹ برائے ایڈیٹر:
پولیو ایک لاعلاج بیماری ہے جس سے پانچ سال تک کی عمر کے بچوں کو سب سے زیادہ خطرہ ہے۔ اس وائرس سے بچے عمر بھر کے لیے معذور ہو سکتے ہیں، حتیٰ کہ کچھ کیسز میں بچوں کی موت بھی واقع ہو سکتی ہے۔ پانچ سال سے کم عمر کے تمام بچوں کو اس موذی مرض سے پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلوا کر بچایا جا سکتا ہے، اور وائرس کو پھیلنے سے روکا جا سکتا ہے۔ متعدد بار پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلوانے سے دنیا کے تمام ممالک پولیو سے پاک ہو چکے ہیں، جبکہ پاکستان اور افغانستان وہ واحد ممالک رہ گئے ہیں جہاں پولیو اب بھی بچوں کے لیے خطرہ ہے۔ انسداد پولیو مہم میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینا ہم سب کا قومی فریضہ ہے۔
یہ پوسٹ وائرس کی جینیاتی جانچ کا نتیجہ شامل کر کے 22 جون کو اپڈیٹ کی گئی۔
مزید معلومات کیلئے رابطہ کریں:
Ms. Hania Naeem, Communications Officer, NEOC, +923431101988