پولیو اپڈیٹ اسلام آباد 19 جولائی 2024 ایک نئے ضلعے اور پہلے سے متاثرہ چھ اضلاع کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس پایا گیا ہے۔

قومی ادارہ صحت میں قائم انسداد پولیو لیبارٹری کے مطابق یکم سے تین جولائی کے درمیان ہنگو، کراچی کیماڑی، چمن، پشین، حیدرآباد، جامشورو اور لاہور سے لیے گئے سیوریج کے پانی کے نمونوں میں پولیو وائرس ملا۔

تمام نمونوں کا جینیاتی تعلق پولیو وائرس کے وائے بی تھری اے وائرس کلسٹر سے ہے جو رواں سال تمام مثبت کیسز اور ماحولیاتی نمونوں میں پایا گیا ہے۔

پاکستان پولیو پروگرام رواں سال چھ انسداد پولیو مہمات کا انعقاد کر چکا ہے، بشمول دو ملک گیر مہمات جن میں جنوری اور فروری میں پانچ سال سے کم عمر کے 40  لاکھ سے زائد بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلائے گئے۔

پولیو وائرس اس سال ملک کے 51  اضلاع میں پایا جا چکا ہے اس لیے والدین کے لیے یہ نہایت اہم ہے کہ وہ اس وائرس سے اپنے بچوں کو لاحق خطرے کو سمجھیں اور ہر پولیو مہم میں پولیو ورکرز کے لیے دروازہ کھولیں اور اپنے پانچ سال سے کم عمر کے تمام بچوں کو ویکسین ضرور پلوائیں۔

پولیو ایک خطرناک لاعلاج بیماری ہے جس سے بچہ عمر بھر کے لیے معذور ہو سکتا ہے۔ پولیو ویکسین کی متعدد خوراکیں ہی بچوں کو عمر بھر کی معذوری سے بچا سکتی ہیں۔ پاکستان پولیو پروگرام کی تمام والدین سے اپیل ہے کہ اپنے گھر میں پانچ سال سے کم عمر کے تمام بچوں کو متعدد بار پولیو ویکسین پلوائیں اور ان کے حفاظتی ٹیکوں کا کورس بھی مکمل کروائیں تاکہ وہ بچپن میں ہونے والی 12 خطرناک بیماریوں سے محفوظ رہ سکیں۔

نوٹ:

پولیو ایک لاعلاج بیماری ہے جس سے پانچ سال تک کی عمر کے بچوں کو سب سے زیادہ خطرہ ہے۔ اس وائرس سے بچے عمر بھر کے لیے معذور ہو سکتے ہیں، حتیٰ کہ کچھ کیسز میں بچوں کی موت بھی واقع ہو سکتی ہے۔ پانچ سال سے کم عمر کے تمام بچوں کو اس موذی مرض سے پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلوا کر بچایا جا سکتا ہے، اور وائرس کو پھیلنے سے روکا جا سکتا ہے۔ بچوں کو متعدد بار پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلوانے سے دنیا کے تمام ممالک پولیو سے پاک ہو چکے ہیں، جبکہ پاکستان اور افغانستان وہ واحد ممالک رہ گئے ہیں جہاں پولیو اب بھی بچوں کے لیے خطرہ ہے۔ انسداد پولیو مہم میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینا ہم سب کا قومی فریضہ ہے۔

مزید معلومات کیلئے رابطہ کریں:

Ms. Hania Naeem, Communications Officer, NEOC, +923431101988

hanianaim17@gmail.com