اسلام آباد، 15 جولائی، 2024 – پاکستان کے اعلیٰ سطحی حکومتی وفد نے گلوبل پولیو ایریڈیکیشن انیشیٹو (جی پی ای آئی) کے انڈپینڈنٹ مانیٹرنگ بورڈ (IMB) کے اجلاس میں یقین دہانی کرائی ہے کہ پاکستان پولیو پروگرام ملک میں پولیو وائرس کے دوبارہ پھیلاؤ سے نمٹنے کے لیے پرعزم ہے اور پولیو وائرس کی منتقلی کو روکنے کے لیے ایک جامع منصوبے پر عمل پیرا ہے۔
آئی ایم بی جنیوا میں 15 سے 19 جولائی تک پولیو کے خاتمے کی عالمی پیشرفت کا جائزہ لینے کے لیے اجلاس منعقد کر رہا ہے جس میں پاکستان اور افغانستان میں پولیو کے خلاف پیشرفت کا بھی جائزہ لیا جائے گا۔ پاکستان کے وفد میں وزیراعظم کے کوارڈینیٹر برائے قومی صحت ڈاکٹر ملک مختار احمد بھرتھ، وزیراعظم کی فوکل پرسن برائے انسداد پولیو عائشہ رضا فاروق، سندھ کے چیف سیکریٹری آصف حیدر شاہ، پنجاب کے چیف سیکریٹری زاہد اختر زمان، خیبر پختونخوا کے چیف سیکریٹری ندیم اسلم چوہدری، بلوچستان کے ایڈیشنل چیف سیکریٹری زاہد سلیم، اور کوآرڈینیٹر نیشنل ایمرجنسی آپریشن سینٹر کیپٹن (ریٹائرڈ) انوار الحق شامل ہیں۔ وفد نے اجلاس میں پولیو کے خاتمے کے لیے حکومت کے ہر سطح پر عزم کو اجاگر کیا۔
آئی ایم بی سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم کے کوارڈینیٹر برائے قومی صحت ڈاکٹر ملک مختار احمد بھرتھ نے کہا کہ ہر آنے والی حکومت پولیو کے خاتمے کے لیے پرعزم رہی ہے اور گزشتہ سال کے دوران نگران اور نئی حکومت دونوں نے پولیو کے خاتمے کی کوششوں کی براہ راست نگرانی جاری رکھی ہے۔
انہوں نے کہا، ’ہمارے موجودہ چیلنجز میں انسداد پولیو مہمات کے انعقاد میں غیر تسلسل، مہمات کے معیار میں عدم یکسانیت، ویکسین سے محروم رہ جانے والے بچے، آبادی کی نقل و حرکت، کمیونٹی میں عدم اعتماد اور پولیو ہائی رسک اضلاع میں حفاظتی ٹیکوں کی کم شرح شامل ہیں۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ وزارت صحت ان چیلنجز سے نمٹنے اور حفاظتی ٹیکوں کی شرح کو بہتر بنانے کے لیے اپنی مکمل حمایت فراہم کرتی رہے گی۔
ڈاکٹر بھرتھ نے کہا کہ پاکستان آنے والے ماہ میں افغانستان کے ساتھ صحت کے موضوع پر ہیلتھ ڈائیلاگ کے لیے پرعزم ہے جس میں پولیو کے خاتمے پر مضبوط تعاون اور دونوں ممالک کی وسیع تر صحت عامہ کی ضروریات پر تعاون پر بات ہو سکے۔
وزیراعظم کی فوکل پرسن برائے انسداد پولیو عائشہ رضا فاروق نے کہا کہ پولیو پروگرام وائرس کے دوبارہ پھیلاؤ اور کیسز کے پیش نظر ہائی الرٹ پر ہے۔ انہوں نے کہا: ’ایسے اضلاع جو کئی ماہ سے پولیو سے پاک رہے ہیں ان میں پولیو وائرس کی واپسی اس بات کی یاد دہانی ہے کہ اگرچہ ہم نے پیشرفت ضرور کی ہے تاہم کسی بھی جگہ وائرس کی تلاش سے اپنی توجہ نہیں ہٹا سکتے اور اب پہلے سے کہیں زیادہ عزم اور محنت کی ضرورت ہے۔‘
اگلے ماہ کے لیے پروگرام کے روڈ میپ کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ اگلے دو ماہ میں پروگرام کو دوبارہ مضبوظ کرنے پر توجہ مرکوز کی جائے گی، جبکہ اس کے بعد آنے والے ماہ میں ویکسین سے محروم رہ جانے والے بچوں تک پہنچنے اور 2025 کے وسط تک وائرس کی منتقلی کو روکنے پر توجہ ہوگی۔
انہوں نے کہا، ’وائرس کا دوبارہ پھیلاؤ یقیناً تشویش کی بات ہے لیکن ہم ناامید نہیں ہیں بلکہ پراعتماد ہیں کہ اس روڈ میپ اور مضبوط سیاسی اور سیکورٹی حمایت کے ساتھ پاکستان اپنی راہ دوبارہ متعین کر سکتا ہے۔‘
پاکستانی وفد نے آئی ایم بی اجلاس کی سائڈ لائین پر افغان وفد سے بھی ملاقات کی اور دونوں ممالک کے پولیو پروگراموں نے سرحد پر ویکسینیشن کی کوششوں کو ہر بچے تک پہنچانے کے لیے تعاون اور ہم آہنگی کو مزید بہتر بنانے کے طریقوں پر غور کیا۔
آئی ایم بی عالمی ماہرین صحت کا ایک غیر جانبدار، آزاد ادارہ ہے جو پولیو کے خاتمے کی کوششوں کا آزادانہ جائزہ اور نگرانی فراہم کرتا ہے اور ہر اجلاس کے بعد ایک سالانہ رپورٹ جاری کرتا ہے جس میں پولیو کے خاتمے کے ہدف تک پہنچنے کے لیے حکمت عملیوں کو بہتر بنانے کی سفارشات ہوتی ہیں۔
نوٹ:
پولیو ایک لاعلاج بیماری ہے جس سے پانچ سال تک کی عمر کے بچوں کو سب سے زیادہ خطرہ ہے۔ اس وائرس سے بچے عمر بھر کے لیے معذور ہو سکتے ہیں، حتیٰ کہ کچھ کیسز میں بچوں کی موت بھی واقع ہو سکتی ہے۔ پانچ سال سے کم عمر کے تمام بچوں کو اس موذی مرض سے پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلوا کر بچایا جا سکتا ہے، اور وائرس کو پھیلنے سے روکا جا سکتا ہے۔ متعدد بار پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلوانے سے دنیا کے تمام ممالک پولیو سے پاک ہو چکے ہیں، جبکہ پاکستان اور افغانستان وہ واحد ممالک رہ گئے ہیں جہاں پولیو اب بھی بچوں کے لیے خطرہ ہے۔ انسداد پولیو مہم میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینا ہم سب کا قومی فریضہ ہے۔
مزید معلومات کے لیے رابطہ کریں:
Ms. Hania Naeem, Communications Officer, NEOC, +923431101988