اسلام آباد، 28 جون 2024 – سندھ اور بلوچستان سے دو پولیو کیس رپورٹ ہوئے ہیں جس کے بعد ملک میں پولیو کیسز کی تعداد آٹھ ہوگئی ہے۔
قومی ادارہ صحت میں قائم انسداد پولیو لیبارٹری کے مطابق قلعہ عبداللہ سے ایک دو سالہ بچے اور کراچی کیماڑی سے ایک تین سالہ بچی سے لیے گئے نمونوں میں پولیو وائرس پایا گیا۔
بچوں میں معذوری کی اعلامات 22 مئی اور تین جون کو ظاہر ہوئیں اور دونوں سے لیے گئے نمونوں میں پائے جانے والے وائرس کا تعلق پولیو وائرس کے وائے بی تھری اے کلسٹر سے ہے۔
وزیر اعظم کی فوکل پرسن برائے پولیو عائشہ رضا فاروق نے کہا کہ اس سال ملک میں پولیو وائرس متعدد بار پایا گیا ہے اور بدقسمتی سے یہ وائرس پاکستانی بچوں کے لیے خطرہ بنا ہوا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ جب تک ہم اس وائرس کا خاتمہ نہیں کر لیتے تب تک کوئی بچہ اس بیماری سے محفوظ نہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت پولیو کے خاتمے کے لیے پرعزم ہے۔
نیشنل ایمرجنسی آپریشنز سینٹر کے کوآرڈینیٹر محمد انوارالحق نے کہا کہ پولیو پروگرام ان کیسز کی تحقیقات لانچ کر رہا ہے تاکہ ان آبادیوں کا پتہ لگایا جا سکے جو ویکسین سے محروم رہی ہیں۔
یہ 2024 میں قلعہ عبداللہ سے تیسرا اور کراچی سے پہلا کیس ہے۔ اس سال ملک میں آٹھ میں سے چھ کیس بلوچستان سے رپورٹ ہوئے ہیں۔
پولیو وائرس خاص طور پر ان بچوں کو نشانہ بناتا ہے جو غذائی قلت کا شکار ہوں اور ان کی قوت مدافعت پولیو اور دیگر ویکسینز سے محروم رہ جانے کی وجہ سے کمزور ہو۔
پاکستان پولیو پروگرام یکم جولائی سے 41 اضلاع میں انسداد پولیو مہم کا انعقاد کر رہا ہے جس میں 90 لاکھ سے زائد بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلائے جائیں گے۔
والدین سے اپیل ہے کہ اپنے تمام پانچ سال سے کم عمر کے بچوں کو اس اور آنے والے تمام مہمات میں پولیو سے بچاؤ کے قطرے ضرور پلوائیں اور انہیں عمر بھر کی معذوری سے بچائیں۔
نوٹ برائے ایڈیٹر:
پولیو ایک لاعلاج بیماری ہے جس سے پانچ سال تک کی عمر کے بچوں کو سب سے زیادہ خطرہ ہے۔ اس وائرس سے بچے عمر بھر کے لیے معذور ہو سکتے ہیں، حتیٰ کہ کچھ کیسز میں بچوں کی موت بھی واقع ہو سکتی ہے۔ پانچ سال سے کم عمر کے تمام بچوں کو اس موذی مرض سے پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلوا کر بچایا جا سکتا ہے، اور وائرس کو پھیلنے سے روکا جا سکتا ہے۔ متعدد بار پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلوانے سے دنیا کے تمام ممالک پولیو سے پاک ہو چکے ہیں، جبکہ پاکستان اور افغانستان وہ واحد ممالک رہ گئے ہیں جہاں پولیو اب بھی بچوں کے لیے خطرہ ہے۔ انسداد پولیو مہم میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینا ہم سب کا قومی فریضہ ہے۔
مزید معلومات کیلئے رابطہ کریں:
Ms. Hania Naeem, Communications Officer, NEOC, +923431101988