28 جون 2024، اسلام آباد  پنچاب کے ضلع گوجرانوالہ اور پہلے سے متاثرہ چھ اضلاع کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس پایا گیا ہے۔

قومی ادارہ صحت میں قائم انسداد پولیو لیبارٹری کے مطابق چھ سے 11 جون کے درمیان گوجرانوالہ، پشاور، کراچی سینٹرل، کراچی ایسٹ، کوئٹہ، نصیرآباد اور اسلام آباد سے لیے گئے سیوریج کے پانی کے نمونوں میں پولیو وائرس ملا جس کا جینیاتی تعلق وائے بی تھری اے پولیو وائرس کلسٹر سے ہے، جو رواں سال تمام پولیو کیسز اور مثبت ماحولیاتی نمونوں میں پایا گیا ہے۔

رواں سال یہ وائرس 47 اضلاع میں پایا گیا ہے بشمول دو اضلاع جہاں صرف کیس رپورٹ ہوئے ہیں۔

پاکستان پولیو پروگرام نے وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے متعدد پولیو مہمات اور دیگر حکمت عملیوں کی منصوبہ بندی کر رکھی ہے۔ رواں سال اب تک پانچ پولیو مہمات کا انعقاد ہوچکا ہے، جن میں دو ملک گیر پولیو مہمات شامل ہیں جن میں جنوری اور فروری میں چار کروڑ سے زائد بچوں کو پولیو ویکسین دی گئی تھی۔

ملک میں اگلی پولیو مہم یکم جولائی سے شروع ہو رہی ہے جس دوران 41  اضلاع میں پانچ سال سے کم عمر کے 90 لاکھ سے زائد بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلائے جائیں گے۔ یہ مہم ان علاقوں میں ہو رہی ہے جہاں وائرس کے پھیلاؤ کا سب سے زیادہ خطرہ ہے۔

پولیو ایک خطرناک لاعلاج بیماری ہے جس سے بچہ عمر بھر کے لیے معذور ہو سکتا ہے۔ پولیو ویکسین کی متعدد خوراکیں بچوں کو عمر بھر کی معذوری سے بچا سکتی ہیں۔ پاکستان پولیو پروگرام کی تمام والدین سے اپیل ہے کہ اپنے گھر میں پانچ سال سے کم عمر کے تمام بچوں کو متعدد بار پولیو ویکسین پلوائیں اور ان کے حفاظتی ٹیکوں کا کورس بھی مکمل کروائیں تاکہ وہ بچپن میں ہونے والی 12 خطرناک بیماریوں سے محفوظ رہ سکیں۔

نوٹ:

پولیو ایک لاعلاج بیماری ہے جس سے پانچ سال تک کی عمر کے بچوں کو سب سے زیادہ خطرہ ہے۔ اس وائرس سے بچے عمر بھر کے لیے معذور ہو سکتے ہیں، حتیٰ کہ کچھ کیسز میں بچوں کی موت بھی واقع ہو سکتی ہے۔ پانچ سال سے کم عمر کے تمام بچوں کو اس موذی مرض سے پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلوا کر بچایا جا سکتا ہے، اور وائرس کو پھیلنے سے روکا جا سکتا ہے۔ بچوں کو متعدد بار پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلوانے سے دنیا کے تمام ممالک پولیو سے پاک ہو چکے ہیں، جبکہ پاکستان اور افغانستان وہ واحد ممالک رہ گئے ہیں جہاں پولیو اب بھی بچوں کے لیے خطرہ ہے۔ انسداد پولیو مہم میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینا ہم سب کا قومی فریضہ ہے۔

مزید معلومات کیلئے رابطہ کریں:

Ms. Hania Naeem, Communications Officer, NEOC, +923431101988

hanianaim17@gmail.com