اسلام آباد، 27 جون، 2024 - وزیر اعظم کے کوآرڈینیٹر برائے نیشنل ہیلتھ سروسز، ڈاکٹر ملک مختار احمد بھرتھ اور وزیر اعظم کی فوکل پرسن برائے انسداد پولیو سینیٹر عائشہ رضا فاروق نے چارج سنبھالنے کے بعد جمعرات کو نیشنل ایمرجنسی آپریشنز سینٹر (این ای او سی) کا دورہ کیا۔
این ای او سی کی ٹیم نے ڈاکٹر بھرتھ اور سینیٹر عائشہ کو پولیو وائرس کی موجودہ صورتحال، رواں سال کیسز اور مثبت ماحولیاتی نمونوں کی تعداد، پولیو سرویلنس اور آئندہ ہفتے منعقد ہونے والی انسدادِ پولیو مہم کی تفصیلات سے متعلق آگاہ کیا۔
این ای او سی میں میٹنگ کی صدارت کرتے ہوئے ڈاکٹر بھرتھ نے سینیٹر عائشہ کو ان کے نئے کردار میں خوش آمدید کہا اور کہا کہ وزیر اعظم پاکستان نے انہیں انسدادِ پولیو پروگرام اور وزیر اعظم کے دفتر کے مابین براہ راست ہم آہنگی کو بہتر بنانے کے لیے تقرر کیا ہے۔

انہوں نے کہا، ’حکومتِ پاکستان پولیو کے خاتمے کی جاری کوششوں کی قیادت کر رہی ہے اور آپ کو ہر قدم پر وزارتِ صحت کی مکمل حمایت حاصل رہے گی۔‘
اپنے ریمارکس میں سینیٹر عائشہ رضا فاروق نے کہا کہ وزیر اعظم پاکستان کو ملک میں پولیو کیسز کی تعداد میں اضافے پر گہری تشویش ہے اور یہ ہی وجہ ہے کہ مجھے یہ اہم ذمہ داری سونپی گئی ہے تاکہ مثبت اور پائیدار پیش رفت کو یقینی بنایا جاسکے۔
انہوں نے کہا، ’وزیراعظم نے ہمیں مثبت پیش رفت کے لیے تین ماہ کا وقت دیا ہے لہذا اگلے چند ماہ انتہائی اہم ہیں جہاں نہ صرف ہمیں مہمات کے معیار کو بہتر بنانا ہے، بلکہ سرویلنس کو مضبوط کرنا ہے اور وائرس کی منتقلی کو روکنے پر توجہ مرکوز کرنی ہے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ پولیو پروگرام نے ماضی میں بہت اچھا کام کیا ہے اور مجھے اس بات کا یقین ہے کہ یہ ٹیم ہر لحاظ سے ایک بہترین ٹیم ہے جو یہ کام کرسکتی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ وہ وزیراعظم کو پولیو کے بارے میں باقاعدگی سے بریفنگ دیتی رہیں گی اور اس کے ساتھ ساتھ این ای او سی میں انسدادِ پولیو مہمات اور سرگرمیوں کی مسلسل نگرانی کرتی رہیں گی۔
این ای او سی کے کوآرڈینیٹر محمد انوارالحق نے سینیٹر عائشہ فاروق کا خیرمقدم کیا اور کہا کہ پولیو کے خاتمے میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنے کے لیے حکومت اور شراکت دار مل کر ایک نئے عزم کے ساتھ کام کر رہے ہیں اور ان علاقوں میں جہاں وائرس مسلسل سے موجود ہے وہاں زیادہ توجہ سے کام جاری رکھیں گے۔
عائشہ رضا فاروق کو منگل کو وزیر اعظم کی فوکل پرسن برائے انسداد پولیو مقرر کیا گیا۔ انہوں نے پہلے بھی 2013 سے 2018 تک اسی کردار میں خدمات انجام دی ہیں۔

نوٹ:
پولیو ایک لاعلاج بیماری ہے جس سے پانچ سال تک کی عمر کے بچوں کو سب سے زیادہ خطرہ ہے۔ اس وائرس سے بچے عمر بھر کے لیے معذور ہو سکتے ہیں، حتیٰ کہ کچھ کیسز میں بچوں کی موت بھی واقع ہو سکتی ہے۔ پانچ سال سے کم عمر کے تمام بچوں کو اس موذی مرض سے پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلوا کر بچایا جا سکتا ہے، اور وائرس کو پھیلنے سے روکا جا سکتا ہے۔ متعدد بار پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلوانے سے دنیا کے تمام ممالک پولیو سے پاک ہو چکے ہیں، جبکہ پاکستان اور افغانستان وہ واحد ممالک رہ گئے ہیں جہاں پولیو اب بھی بچوں کے لیے خطرہ ہے۔ انسداد پولیو مہم میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینا ہم سب کا قومی فریضہ ہے۔
مزید معلومات کیلئے رابطہ کریں:
Ms. Hania Naeem, Communications Officer, NEOC, +923431101988