اسلام آباد، 25 جون 2024  –  رواں سال کا چھٹا پولیو کیس بلوچستان کے ضلع قلعہ عبداللہ سے رپورٹ ہوا ہے۔

قومی ادارہ صحت میں قائم انسداد پولیو لیبارٹری کے مطابق یونین کونسل گلستان 2 سے تعلق رکھنے والے ایک 1.5 سالہ بچے سے لیے گئے نمونوں میں پولیو وائرس پایا گیا۔

متاثرہ بچے میں معذوری کی علامات تین جون کو ظاہر ہوئیں اور اس سے لیے گئے نمونوں میں پائے جانے والا وائرس جینیاتی طور پر وائے بی تھری اے پولیو وائرس کلسٹر سے ہے، جو اس سال کے تمام مثبت کیسز اور ماحولیاتی نمونوں میں پایا گیا ہے۔

وزیراعظم کے کوآرڈینیٹر برائے صحت ڈاکٹر ملک مختار بھرتھ نے کہا ہے کہ یہ بلوچستان سے اس سال کا پانچواں پولیو کیس ہے۔

انہوں نے کہا: ’حکومت صوبے میں حفاظتی ٹیکوں کی شرح کو بڑھانے اور صحت کے نظام کو مضبوط بنانے پر کام کر رہی ہے، لیکن ہم اکیلے اس بیماری کو شکست نہیں دے سکتے، والدین اور عوام کا تعاون بہت ضروری ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ اس سال پولیو وائرس 40 سے زائد اضلاع کے ماحولیاتی نمونوں میں پایا گیا ہے یعنی یہ بچوں کے لیے مسلسل خطرہ ہے، اور والدین پر زور دیا کہ وہ ہر پولیو مہم میں اپنے پانچ سال سے کم عمر کے تمام بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے ضرور پلوائیں۔

یہ قلعہ عبداللہ سے رواں سال کا دوسرا جبکہ بلوچستان سے سال کا پانچواں پولیو کیس ہے۔

انسداد پولیو کے لیے قائم نیشنل ایمرجنسی آپریشنز سینٹر کے کوآرڈینیٹر محمد انوارالحق نے کہا ہے کہ پولیو وائرس لوگوں کے ساتھ ایک سے دوسری جگہ منتقل ہوتا ہے اور بچوں کو اس موذی بیماری سے بچانے کے لیے پولیو ویکسین کی متعدد خوراکیں ہی سب سے موثر ہوتی ہیں۔

ان کا کہنا تھا: ’پاکستان پولیو پروگرام اس سال اب تک پانچ پولیو مہمات کا انعقاد کر چکا ہے تاہم بلوچستان کے دیگر اضلاع میں ہمیں چیلنجز کا سامنا رہا ہے جہاں سکیورٹی یا مقامی مظاہروں کی وجہ سے مہمات کا مکمل طور پر انعقاد نہیں ہو پایا ہے۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ پولیو پروگرام وزارت صحت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ مل کر کام کر رہا ہے تاکہ پولیو مہمات میں کوئی خلل نہ آئے۔

پولیو پروگرام نے اس کیس کی تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے تاکہ یہ معلوم ہو سکے کہ وائرس کیسے اس علاقے میں پہنچا اور ان بچوں کو ویکسین پہنچا سکے جو اس سے محروم رہ گئے ہیں۔

نوٹ برائے ایڈیٹر:

پولیو ایک لاعلاج بیماری ہے جس سے پانچ سال تک کی عمر کے بچوں کو سب سے زیادہ خطرہ ہے۔ اس وائرس سے بچے عمر بھر کے لیے معذور ہو سکتے ہیں، حتیٰ کہ کچھ کیسز میں بچوں کی موت بھی واقع ہو سکتی ہے۔ پانچ سال سے کم عمر کے تمام بچوں کو اس موذی مرض سے پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلوا کر بچایا جا سکتا ہے، اور وائرس کو پھیلنے سے روکا جا سکتا ہے۔ بچوں کو متعدد بار پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلوانے سے دنیا کے تمام ممالک پولیو سے پاک ہو چکے ہیں، جبکہ پاکستان اور افغانستان وہ واحد ممالک رہ گئے ہیں جہاں پولیو اب بھی بچوں کے لیے خطرہ ہے۔ انسداد پولیو مہم میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینا ہم سب کا قومی فریضہ ہے۔

مزید معلومات کیلئے رابطہ کریں:

Ms. Hania Naeem, Communications Officer, NEOC, +923431101988

hanianaim17@gmail.com