اسلام آباد، 24 جون 2024 - وزیر اعظم شہباز شریف نے پیر کو پولیو کے خاتمے کے لیے نیشنل ٹاسک فورس (این ٹی ایف) کے اجلاس کی صدارت کی جس میں بل اینڈ ملینڈا گیٹس کے کو چیئر بل گیٹس نے شرکت کی۔
اجلاس میں وزیراعظم نے کہا کہ فرنٹ لائن ورکرز کی لگن، حکومت پاکستان کے عزم اور پارٹنرز کے تعاون سے آج پاکستان نے پولیو کے خلاف اہم پیش رفت کی ہے، تاہم جب تک یہ وائرس ماحول میں ملک میں موجود رہے گا اور بچوں کو معذور کرتا رہے گا تب تک ہمارا کام مکمل نہیں ہو سکتا۔
انہوں نے صوبائی حکومتوں پر زور دیا کہ وہ اپنے علاقوں میں پولیو کے خاتمے کی جاری کوششوں کی موثر قیادت کریں تاکہ اس سال پولیو وائرس کے پھیلاؤ کو فوری طور پر روکا جا سکے۔
وزیراعظم نے کہا: ’رواں سال اب تک پانچ پولیو کیس رپورٹ ہوئے ہیں، ہم اپنے بچوں کو ایک ایسی بیماری سے خطرے میں نہیں ڈال سکتے جس سے ویکسین کی مدد سے مکمل طور پر بچاؤ ممکن ہے۔‘
وزیراعظم نے مزید کہا کہ ہمیں پوری لگن اور سنجیدگی کے ساتھ اس امر کو یقینی بنانا چاہیے کہ ملک بھر کے ہر بچے کو ویکسین کی متعدد خوراکیں ملیں اور وہ پولیو سے محفوظ رہے۔

نیشنل ٹاسک فورس (این ٹی ایف) ایک اعلی سطحی فورم ہے جس کی سربراہی وزیراعظم پاکستان کرتے ہیں، جبکہ تمام صوبوں کے وزرائے اعلیٰ، چیف سیکریٹریز، وزیر اعظم آزاد جموں و کشمیر اور وزیراعلیٰ گلگت بلتستان اس کے رکن ہیں۔ اس اجلاس میں ملک میں پولیو کے خاتمے کی کوششوں، چیلنجز اور ان کے حل پر غور کیا جاتا ہے۔
وزیر اعظم کے کوآرڈینیٹر برائے نیشنل ہیلتھ سروسز ڈاکٹر ملک مختار احمد بھرتھ نے کہا کہ پاکستان میں اس سال پولیو کے پھیلاؤ کی وجہ سے حالیہ برسوں میں حاصل کی گئی متعدد کامیابیاں خطرے میں پڑ گئی ہیں۔ ان کا کہنا تھا: ’ہمیں وائرس کی منتقلی کو روکنے کے لیے فوری طور پر کام کرنا چاہیے اور ہر بچے کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلانے چاہییں تاکہ وائرس کسی کو اپنا شکار نہ بنا سکے۔‘
اس موقعے پر بی ایم جی ایف کے کو چیئر بل گیٹس نے پولیو کے خلاف پاکستان کی پیشرفت کو سراہتے ہوئے کہا کہ اب تک ہونے والے اچھے کام کو آگے بھی جاری رکھنا ہوگا تاکہ پولیو کے خلاف کامیابیاں جاری رہیں۔
انہوں نے کہا کہ وہ پاکستان میں پولیو کے خاتمے کے لیے پرعزم ہیں اور پولیو کے ساتھ ساتھ دیگر صحت پروگرامز میں تعاون جاری رکھیں گے۔ انہوں نے کہا: ’مجھے یقین ہے کہ مل کر کام جاری رکھنے اور نئی حکمت عملیوں پر عمل درآمد کرنے سے پاکستان پولیو کے خاتمے کی طرف بڑی پیش رفت کرے گا۔‘
انسداد پولیو کے لیے قائم نیشنل ایمرجنسی آپریشنز سینٹر کے کوآرڈینیٹر کیپٹن (ر) محمد انوارالحق نے کہا کہ متعدد پولیو مہمات کے ذریعے پولیو پروگرام نے کامیابی سے پولیو وائرس کی جینیاتی قسم وائے بی تھری سی کو جنوبی خیبرپختونخوا (کے پی) تک محدود کر دیا ہے جبکہ یہ وائرس ملک میں گزشتہ چھ ماہ سے نہیں ملا۔

انہوں نے مزید کہا: ’ہمیں متعدد علاقوں میں پے در پے پولیو مہمات کے انعقاد میں اب بھی کچھ چلینجز کا سامنا ہے، خاص طور پر سیکیورٹی صورتحال سے متاثرہ علاقوں اور بلوچستان کے کچھ حصوں میں البتہ پاکستان پولیو پروگرام وزارتِ قومی صحت کی قیادت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے تعاون سے ہر بچے تک پہنچنے کی کوشش جاری رکھے ہوئے ہے۔‘
نیشنل ٹاسک فورس کا اجلاس ایک ایسے اہم وقت پر منعقد ہوا ہے جب اس سال اب تک پولیو کے پانچ کیسز رپورٹ ہوئے ہیں اور یہ وائرس 40 سے زائد اضلاع کے ماحولیاتی نمونوں میں پایا گیا ہے جن میں کراچی، پشاور اور کوئٹہ جیسے پہلے کلیئر کیے گئے علاقے بھی شامل ہیں۔
صوبائی قیادت نے پولیو کے خاتمے کے لیے حکومت کے عزم کا اعادہ کیا اور وزیراعظم کو اپنے علاقے میں پولیو کے خاتمے کی جاری کوششوں کی قیادت کو یقینی بنانے کی یقین دہانی کروائی۔

نوٹ:
پولیو ایک لاعلاج بیماری ہے جس سے پانچ سال تک کی عمر کے بچوں کو سب سے زیادہ خطرہ ہے۔ اس وائرس سے بچے عمر بھر کے لیے معذور ہو سکتے ہیں، حتیٰ کہ کچھ کیسز میں بچوں کی موت بھی واقع ہو سکتی ہے۔ پانچ سال سے کم عمر کے تمام بچوں کو اس موذی مرض سے پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلوا کر بچایا جا سکتا ہے، اور وائرس کو پھیلنے سے روکا جا سکتا ہے۔ بچوں کو متعدد بار پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلوانے سے دنیا کے تمام ممالک پولیو سے پاک ہو چکے ہیں، جبکہ پاکستان اور افغانستان وہ واحد ممالک رہ گئے ہیں جہاں پولیو اب بھی بچوں کے لیے خطرہ ہے۔ انسداد پولیو مہم میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینا ہم سب کا قومی فریضہ ہے۔
مزید معلومات کیلئے رابطہ کریں:
Ms. Hania Naeem, Communications Officer, NEOC, +923431101988