پولیو اپڈیٹ  اسلام آباد 16 جون 2024

بلوچستان کے ضلع لورالئی اور پہلے سے متاثرہ دو اضلاع کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی تصدیق ہوئی ہ

قومی ادارہ صحت میں قائم انسداد پولیو لیبارٹری  کے مطابق راولپنڈی، اسلام آباد اور لورالئی سے تین جون کو لیے گئے سیوریج کے پانی کے نمونوں میں پولیو وائرس پایا ہے۔

پاکستان پولیو پروگرام نے وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے متعدد پولیو مہمات اور دیگر حکمت عملیوں کی منصوبہ بندی کر رکھی ہے۔ رواں سال اب تک پانچ پولیو مہمات کا انعقاد ہوچکا ہے، جن میں حالیہ ترین مہم گذشتہ ہفتے ختم ہوئی ہے جس میں پانچ سال سے کم عمر کے ایک کروڑ 70 لاکھ بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلائے گئے۔

پولیو ایک خطرناک لاعلاج بیماری ہے جس سے بچہ عمر بھر کے لیے معذور ہو سکتا ہے۔ پولیو ویکسین کی متعدد خوراکیں بچوں کو عمر بھر کی معذوری سے بچا سکتی ہیں۔ پاکستان پولیو پروگرام کی تمام والدین سے اپیل ہے کہ اپنے گھر میں پانچ سال سے کم عمر کے تمام بچوں کو متعدد بار پولیو ویکسین پلوائیں اور ان کے حفاظتی ٹیکوں کا کورس بھی مکمل کروائیں تاکہ وہ بچپن میں ہونے والی 12 بیماریوں سے محفوظ رہ سکیں۔

نوٹ:

پولیو ایک لاعلاج بیماری ہے جس سے پانچ سال تک کی عمر کے بچوں کو سب سے زیادہ خطرہ ہے۔ اس وائرس سے بچے عمر بھر کے لیے معذور ہو سکتے ہیں، حتیٰ کہ کچھ کیسز میں بچوں کی موت بھی واقع ہو سکتی ہے۔ پانچ سال سے کم عمر کے تمام بچوں کو اس موذی مرض سے پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلوا کر بچایا جا سکتا ہے، اور وائرس کو پھیلنے سے روکا جا سکتا ہے۔ بچوں کو متعدد بار پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلوانے سے دنیا کے تمام ممالک پولیو سے پاک ہو چکے ہیں، جبکہ پاکستان اور افغانستان وہ واحد ممالک رہ گئے ہیں جہاں پولیو اب بھی بچوں کے لیے خطرہ ہے۔ انسداد پولیو مہم میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینا ہم سب کا قومی فریضہ ہے۔

مزید معلومات کیلئے رابطہ کریں:

Ms. Hania Naeem, Communications Officer, NEOC, +923431101988

hanianaim17@gmail.com