اسلام آباد، آٹھ جون 2024 –   پاکستان میں رواں سال کا پانچواں پولیو کیس بلوچستان کے ضلع کوئٹہ سے رپورٹ ہوا ہے۔

دو سال کی عمر کے متاثرہ بچے میں معذوری کی علامات 29 اپریل کو ٹانگوں میں ظاہر ہوئیں۔ بچہ مزید بیمار ہوتا گیا، معذوری بازو تک پھیل گئی اور بدقسمتی سے کچھ ہفتوں بعد کراچی کے ایک ہسپتال میں فوت ہوگیا۔

قومی ادارہ صحت میں قائم انسداد پولیو لیبارٹری کے مطابق بچے، اس کے بھائی اور گھر میں ساتھ رہنے والے کزن سے لیے گئے نمونوں میں پولیو وائرس کی تصدیق ہوئی۔ نمونوں میں پائے گئے پولیو وائرس کا تعلق سرحد پار سے آئے وائے بی تھری اے پولیو وائرس کلسٹر سے ہے۔

وزیراعظم کے کوآرڈینیٹر برائے صحت ڈاکٹر ملک مختار بھرت نے کہا: ’یہ کیس ایک بار پھر ایک افسوس ناک یاد دہانی ہے کہ جب تک ہم پولیو وائرس کا خاتمہ نہیں کر لیتے یہ موذی بیماری ہر بچے کے لیے خطرہ بنی رہے گی۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ رواں سال کے پانچ میں سے چار کیس بلوچستان سے رپورٹ ہوئے ہیں اور حکومت صوبے میں پولیو ویکسین اور حفاظتی ٹیکوں کی شرح کو بڑھانے پر کام کر رہی ہے تاکہ بچوں کی قوت مدافعت مضبوط رہے۔

اس سال بلوچستان سے 50 سے زائد ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس پایا گیا ہے، جن میں 21  مثبت نمونے کوئٹہ سے ہیں۔

انسداد پولیو کے لیے قائم نیشنل ایمرجنسی آپریشنز سینٹرکے کوآرڈینیٹر کیپٹن (ریٹائرڈ) محمد انور الحق نے کہا کہ اس کیس کی تحقیقات کی جا رہی ہیں۔

انہوں نے مزید کہا: ’گذشتہ کچھ ماہ میں امن و امان کی صورت حال اور مقامی مظاہروں کی وجہ سے پاکستان پولیو پروگرام کو کوئٹہ اور بلوچستان میں پولیو مہمات کے مکمل انعقاد میں چیلنجز کا سامنا رہا ہے۔ پولیو مہمات میں رکاوٹیں بچوں کی قوت مدافعت کے لیے سنگین نتائج کا باعث بن سکتی ہیں، خاص طور پر ایسے وقت میں جب پولیو وائرس دیگر اضلاع میں مسلسل پایا جا رہا ہے۔‘  

ان کا کہنا تھا کہ وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے پاکستان پولیو پروگرام پولیو مہمات سمیت مزید حکمت عملیوں پر غور کر رہا ہے تاکہ بچوں کو اس بیماری سے بچا سکیں۔

یہ رواں سال کا پانچواں پولیو کیس اور کوئٹہ سے چار سال بعد پہلا کیس ہے۔

گذشتہ سال پاکستان سے چھ پولیو کیس رپورٹ ہوئے تھے۔

نوٹ برائے ایڈیٹر:

پولیو ایک لاعلاج بیماری ہے جس سے پانچ سال تک کی عمر کے بچوں کو سب سے زیادہ خطرہ ہے۔ اس وائرس سے بچے عمر بھر کے لیے معذور ہو سکتے ہیں، حتیٰ کہ کچھ کیسز میں بچوں کی موت بھی واقع ہو سکتی ہے۔ پانچ سال سے کم عمر کے تمام بچوں کو اس موذی مرض سے پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلوا کر بچایا جا سکتا ہے، اور وائرس کو پھیلنے سے روکا جا سکتا ہے۔ متعدد بار پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلوانے سے دنیا کے تمام ممالک پولیو سے پاک ہو چکے ہیں، جبکہ پاکستان اور افغانستان وہ واحد ممالک رہ گئے ہیں جہاں پولیو اب بھی بچوں کے لیے خطرہ ہے۔ انسداد پولیو مہم میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینا ہم سب کا قومی فریضہ ہے۔

مزید معلومات کیلئے رابطہ کریں:

Ms. Hania Naeem, Communications Officer, NEOC, +923431101988

hanianaim17@gmail.com