پانچ جون 2024، اسلام آباد ملک کے دو نئے اضلاع اور پہلے سے متاثرہ 03 اضلاع کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس پایا گیا ہے۔
اور لسبیلا سے لیے گئے سیوریج کے پانی کے پانچ نمونوں میں پولیو وائرس ملا جس کا جینیاتی تعلق سرحد پار کے وائے بی تھری اے پولیو وائرس کلسٹر سے ہے اور رواں سال اب تک 44 اضلاع کے ماحولیاتی نمونوں میں پایا گیا ہے۔۔
پاکستان پولیو پروگرام نے وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے متعدد پولیو مہمات اور دیگر حکمت عملیوں کی منصوبہ بندی کر رکھی ہے۔ رواں سال اب تک چار پولیو مہمات کا انعقاد ہوچکا ہے، جن میں دو ملک گیر پولیو مہمات شامل ہیں۔
اس کے ساتھ ساتھ پانچویں پولیو مہم ملک کے69 اضلاع میں تین جون سے جاری ہے جس میں پانچ سال سے کم عمر کے ایک کروڑ 70 لاکھ سے زائد بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلائے جائیں گے۔ ملک کے 37 اضلاع میں مکمل جبکہ 32 اضلاع میں جزوی مہم کا انعقاد کیا جائے گا۔
پولیو ایک خطرناک لاعلاج بیماری ہے جس سے بچہ عمر بھر کے لیے معذور ہو سکتا ہے۔ پولیو ویکسین کی متعدد خوراکیں بچوں کو عمر بھر کی معذوری سے بچا سکتی ہیں۔ پاکستان پولیو پروگرام کی تمام والدین سے اپیل ہے کہ اپنے گھر میں پانچ سال سے کم عمر کے تمام بچوں کو متعدد بار پولیو ویکسین پلوائیں اور ان کے حفاظتی ٹیکوں کا کورس بھی مکمل کروائیں تاکہ وہ بچپن میں ہونے والی 12 بیماریوں سے محفوظ رہ سکیں۔
یہ پوسٹ لسبیلا کے ماحولیاتی نمونے سے پولیو وائرس ملنے پر 6 جون کو ایڈیٹ کی گئی ہے
نوٹ:
پولیو ایک لاعلاج بیماری ہے جس سے پانچ سال تک کی عمر کے بچوں کو سب سے زیادہ خطرہ ہے۔ اس وائرس سے بچے عمر بھر کے لیے معذور ہو سکتے ہیں، حتیٰ کہ کچھ کیسز میں بچوں کی موت بھی واقع ہو سکتی ہے۔ پانچ سال سے کم عمر کے تمام بچوں کو اس موذی مرض سے پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلوا کر بچایا جا سکتا ہے، اور وائرس کو پھیلنے سے روکا جا سکتا ہے۔ بچوں کو متعدد بار پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلوانے سے دنیا کے تمام ممالک پولیو سے پاک ہو چکے ہیں، جبکہ پاکستان اور افغانستان وہ واحد ممالک رہ گئے ہیں جہاں پولیو اب بھی بچوں کے لیے خطرہ ہے۔ انسداد پولیو مہم میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینا ہم سب کا قومی فریضہ ہے۔
مزید معلومات کیلئے رابطہ کریں:
Ms. Hania Naeem, Communications Officer, NEOC, +923431101988