ملک کے چھ پہلے سے متاثرہ اضلاع کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس پایا گیا ہے۔
قومی ادارہ صحت میں قائم انسداد پولیو لیبارٹری کے مطابق چھ سے 14 مئی کے درمیان کراچی کیماڑی، کراچی ملیر، سکھر، جیکب آباد، حیدر آباد اور لاہور سے لیے گئے سیوریج کے پانی کے آٹھ نمونوں میں پولیو وائرس ملا جس کا جینیاتی تعلق سرحد پار کے وائے بی تھری اے پولیو وائرس کلسٹر سے ہے۔
یہ وائرس کلسٹر2021 میں پاکستان میں ختم ہوگیا تھا، تاہم گذشتہ سال سرحد پار سے ایک بار پھر پاکستان میں واپس آگیا۔
رواں سال یہ وائرس 38 اضلاع کے ماحولیاتی نمونوں اور بلوچستان کے اضلاع چمن، ڈیرہ بگٹی اور قلعہ عبداللہ سے رپورٹ ہونے والے تین پولیو کیسز میں یایا گیا ہے۔
پاکستان پولیو پروگرام نے وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے متعدد پولیو مہمات اور دیگر حکمت عملیوں کی منصوبہ بندی کر رکھی ہے۔ اس سال اب تک چار پولیو مہمات کا انعقاد ہوچکا ہے جبکہ اگلی پولیو مہم عید سے قبل تین جون سے شروع ہو رہی ہے جس میں پانچ سال سے کم عمر کے 1.6 کروڑ سے زائد بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلائے جائیں گے۔ ملک کے 39 اضلاع میں مکمل جبکہ 29 اضلاع کی مخصوص یونین کونسلز میں جزوی مہم کا انعقاد کیا جائے گا۔
پولیو ایک خطرناک لاعلاج بیماری ہے جس سے بچہ عمر بھر کے لیے معذور ہو سکتا ہے۔ پاکستان پولیو پروگرام کی تمام والدین سے اپیل ہے کہ اپنے گھر میں پانچ سال سے کم عمر کے تمام بچوں کو متعدد بار پولیو ویکسین پلوائیں اور ان کے حفاظتی ٹیکوں کا کورس بھی مکمل کروائیں تاکہ وہ بچپن میں ہونے والی 12 بیماریوں سے محفوظ رہ سکیں۔
نوٹ:
پولیو ایک لاعلاج بیماری ہے جس سے پانچ سال تک کی عمر کے بچوں کو سب سے زیادہ خطرہ ہے۔ اس وائرس سے بچے عمر بھر کے لیے معذور ہو سکتے ہیں، حتیٰ کہ کچھ کیسز میں بچوں کی موت بھی واقع ہو سکتی ہے۔ پانچ سال سے کم عمر کے تمام بچوں کو اس موذی مرض سے پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلوا کر بچایا جا سکتا ہے، اور وائرس کو پھیلنے سے روکا جا سکتا ہے۔ بچوں کو متعدد بار پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلوانے سے دنیا کے تمام ممالک پولیو سے پاک ہو چکے ہیں، جبکہ پاکستان اور افغانستان وہ واحد ممالک رہ گئے ہیں جہاں پولیو اب بھی بچوں کے لیے خطرہ ہے۔ انسداد پولیو مہم میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینا ہم سب کا قومی فریضہ ہے۔
مزید معلومات کیلئے رابطہ کریں:
Ms. Hania Naeem, Communications Officer, NEOC, +923431101988