اسلام آباد، 25 مئی 2024 – رواں سال کا تیسرا پولیو کیس بلوچستان کے ضلع قلعہ عبداللہ سے رپورٹ ہوا ہے۔

قومی ادارہ صحت میں قائم انسداد پولیو لیبارٹری کے مطابق قلعہ عبداللہ کی یونین کونسل دروزئی میں ایک بچی سے لیے گئے نمونوں میں پولیو وائرس پایا گیا ہے۔

پولیو سے متاثرہ بچی میں معذوری کی علامات20 اپریل کو ظاہر ہوئیں۔ وائرس کا جینیاتی تعلق سرحد پار کے وائے بی تھری اے جینیاتی کلسٹر سے ہے۔

وزیر اعظم کے کوآرڈینیٹر برائے صحت ڈاکٹر ملک مختار احمد بھرت نے افسوس کا اظہار کیا ہے کہ بلوچستان میں رواں سال ایک اور بچہ پولیو سے متاثر ہوا ہے۔

ان کا کہنا تھا: ’پولیو ایک موذی مرض ہے جس سے عمر بھر کے لیے نہ صرف بچہ بلکہ پورا خاندان ہی متاثر ہوتا ہے۔ میری والدین سے اپیل ہے کہ اس بیماری کے خطرے کو سمجھیں اور جب بھی آپ کے دروازے پر پولیو ورکر آئیں، ان کے لیے دروازہ کھولیں اور پانچ سال سے کم عمر کے ہر بچے کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے ضروری پلوائیں۔‘

انسداد پولیو کے لیے قائم نیشنل ایمرجنسی آپریشنز سینٹر کے کوآرڈینیٹر ڈاکٹر شہزاد بیگ نے کہا کہ اس کیس کی مکمل تحقیقات کی جا رہی ہیں تاکہ پتہ لگا سکیں کہ وائرس کہاں سے آیا، اور وہ کونسی ایسی آبادیاں ہیں جو ویکسین سے محروم رہی ہیں تاکہ وہاں ویکسین پہنچائی جائے۔

انہوں نے مزید کہا کہ پولیو پروگرام رواں سال چار پولیو مہمات کا انعقاد کر چکا ہے جن میں دو ملک گیر پولیو مہمات شامل تھیں جن کے دوران جنوری اور فروری میں چار کروڑ سے زائد بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے دیے گئے۔

انہوں نے کہا کہ اگلی پولیو مہم کا انعقاد جون میں کیا جا رہا ہے۔

یہ رواں سال بلوچستان سے پولیو کا تیسرا اور قلعہ عبداللہ سے پہلا کیس ہے۔ اس ضلعے میں آخری بار پولیو کیس تین سال قبل جنوری 2021 میں رپورٹ ہوا تھا۔

گذشتہ سال پاکستان میں چھ پولیو رپورٹ ہوئے تھے، چار خیبر پختونخوا سے اور دو کراچی سے۔

یہ پوسٹ وائرس کی جینیاتی جانچ کا نتیجہ شامل کر کے  27  مئی کو اپڈیٹ کی گئی۔

نوٹ برائے ایڈیٹر: 

پولیو ایک لاعلاج بیماری ہے جس سے پانچ سال تک کی عمر کے بچوں کو سب سے زیادہ خطرہ ہے۔ اس وائرس سے بچے عمر بھر کے لیے معذور ہو سکتے ہیں، حتیٰ کہ کچھ کیسز میں بچوں کی موت بھی واقع ہو سکتی ہے۔ پانچ سال سے کم عمر کے تمام بچوں کو اس موذی مرض سے پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلوا کر بچایا جا سکتا ہے، اور وائرس کو پھیلنے سے روکا جا سکتا ہے۔ متعدد بار پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلوانے سے دنیا کے تمام ممالک پولیو سے پاک ہو چکے ہیں، جبکہ پاکستان اور افغانستان وہ واحد ممالک رہ گئے ہیں جہاں پولیو اب بھی بچوں کے لیے خطرہ ہے۔ انسداد پولیو مہم میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینا ہم سب کا قومی فریضہ ہے۔

مزید معلومات کیلئے رابطہ کریں:

Ms. Hania Naeem, Communications Officer, NEOC, +923431101988

hanianaim17@gmail.com