پولیو اپڈیٹ، اسلام آباد، 21 مئی 2024

ملک کے تین ایسے اضلاع میں پولیو وائرس کی تصدیق ہوئی ہے جہاں رواں سال پہلے بھی وائرس مل چکا ہے۔

قومی ادارہ صحت میں قائم انسداد پولیو لیباٹری کے مطابق چھ اور سات مئی کو حیدرآباد، چمن اور کوئٹہ سے لیے گئے سیوریج کے پانی کے نمونوں میں پولیو وائرس پایا گیا جس کا جینیاتی تعلق سرحد پار سے آئے وائے بی تھری پولیو وائرس کلسٹر سے ہے۔

یہ وائرس 2021 میں پاکستان میں ختم ہوگیا تھا تاہم افغانستان میں موجود تھا اور گذشتہ سال سرحد پار سے پاکستان میں واپس آیا۔

رواں سال 38 اضلاع کے مثبت ماحولیاتی نمونوں اور دو پولیو کیسز میں بھی یہی وائرس پایا گیا ہے۔

پاکستان پولیو پروگرام اب تک ملک میں چار انسدادِ پولیو مہمات کا انعقاد کر چکا ہے، بشمول دو ملک گیر پولیو مہمات جن میں جنوری اور فروری میں پانچ سال سے کم عمر کے چار کروڑ سے زائد بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلائے جا چکے ہیں۔ اگلی پولیو مہم کا انعقاد عید الاضحی سے قبل جون کے پہلے ہفتے میں ہوگا۔

پولیو ایک لاعلاج بیماری ہے۔ ہم تمام والدین سے اپیل کرتے ہیں کہ ہر پولیو مہم میں اپنے پانچ سال سے کم عمر کے بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے لازمی پلوائیں اور اس کے ساتھ ساتھ ان کو تمام حفاظتی ٹیکوں کا کورس بھی مکمل کروائیں تاکہ وہ پولیو سمیت12  خطرناک بیماریوں سے بچ سکیں۔

نوٹ:                                                                                                                         

پولیو ایک لاعلاج بیماری ہے جس سے پانچ سال تک کی عمر کے بچوں کو سب سے زیادہ خطرہ ہے۔ اس وائرس سے بچے عمر بھر کے لیے معذور ہو سکتے ہیں، حتیٰ کہ کچھ کیسز میں بچوں کی موت بھی واقع ہو سکتی ہے۔ پانچ سال سے کم عمر کے تمام بچوں کو اس موذی مرض سے پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلوا کر بچایا جا سکتا ہے، اور وائرس کو پھیلنے سے روکا جا سکتا ہے۔ متعدد بار پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلوانے سے دنیا کے تمام ممالک پولیو سے پاک ہو چکے ہیں، جبکہ پاکستان اور افغانستان وہ واحد ممالک رہ گئے ہیں جہاں پولیو اب بھی بچوں کے لیے خطرہ ہے۔ انسداد پولیو مہم میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینا ہم سب کا قومی فریضہ ہے۔

مزید معلومات کیلئے رابطہ کریں:

Ms. Hania Naeem, Communications Officer, NEOC, +923431101988

hanianaim17@gmail.com