لاہور، 10 مئی، 2024 – وزیراعظم کے کوارڈینیٹر برائے قومی صحت ڈاکٹر ملک مختار احمد بھرتھ نے آج لاہور میں پاکستان پولیو پروگرام کے زیر اہتمام ایک مشاورتی ورکشاپ میں شرکت کی۔ دو روزہ ورکشاپ میں بلوچستان، خیبرپختونخوا اور سندھ کے 14 ہائی رسک اضلاع سے تعلق رکھنے والے ڈپٹی کمشنرز، اسسٹنٹ ڈپٹی کمشنرز اور ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسرز نے شرکت کی۔
اپنے خطاب میں وزیراعظم کے کوارڈینیٹر برائے قومی صحت ڈاکٹر ملک مختار احمد بھرتھ نے اپنے اپنے دائرہ کار میں پولیو کے خاتمے کی جاری کوششوں میں ضلعی انتظامیہ کے اہم کردار پر زور دیا۔ پولیو مہم کے دوران ضلعی انتظامیہ کی فعال شمولیت اور ان کے غیر متزلزل عزم پر زور دیتے ہوئے تمام تر وسائل کو بروئے کار لانے اور اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ ہم آہنگی کے زریعے پولیو مہم کے موثر نفاذ کو یقینی بنانے کی اہمیت پر زور دیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ"پولیو ٹیموں کے حوالے سے حکومتی جوابدہی کے شرع میں پیچھے رہنے والے اضلاع کو اپنی کارکردگی میں اضافہ کرنا ہوگا۔"
اپنے خطاب میں انہوں نے مزید کہا کہ "پاکستان نے پولیو کو شکست دینے کیلئے سخت محنت کی ہے اور آج ہم پہلے سے کہیں زیادہ کامیابی کے قریب ہیں جبکہ بہت کم بچے اس وائرس سے متاثر ہو رہے ہیں اور کئی اضلاع میں ویکسینیشن کی شرح زیادہ ہے لیکن ان تمام ہائی رسک اضلاع میں خطرہ اب بھی برقرار ہے جہاں پولیو وائرس مسلسل گردش کر رہا ہے جو بچوں کی صحت کیلئے خطرہ ہے۔ موثر نگرانی، آنے والی مہمات کی منصوبہ بندی پر عملدرآمد کے زریعے ہر بچے تک پولیو ویکسین کی رسائی کو ممکن بنانا ہماری حکمت عملی کا اہم جزو ہوگا۔
شرکاء نے درپیش چیلنجز کی سنگینی اور پولیو کے خاتمے کے ہدف کو حاصل کرنے کیلئے مشترکہ کاوشوں کی اہمیت کو تسلیم کرتے ہوئے اس مقصد کے حصول کیلئے اپنے عزم کا اعادہ کیا۔
پاکستان پولیو پروگرام کی سینئیر قیادت درپیش چیلنجز کے بارے میں آگاہ کرنے اور مقامی ضلعی حکام کی طرف سے درکار تعاون کی uنشاندہی کرنے کیلئے ورکشاپ میں موجود تھی
نوٹ:
پولیو ایک لاعلاج بیماری ہے جس سے پانچ سال تک کی عمر کے بچوں کو سب سے زیادہ خطرہ ہے۔ اس وائرس سے بچے عمر بھر کے لیے معذور ہو سکتے ہیں، حتیٰ کہ کچھ کیسز میں بچوں کی موت بھی واقع ہو سکتی ہے۔ پانچ سال سے کم عمر کے تمام بچوں کو اس موذی مرض سے پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلوا کر بچایا جا سکتا ہے، اور وائرس کو پھیلنے سے روکا جا سکتا ہے۔ متعدد بار پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلوانے سے دنیا کے تمام ممالک پولیو سے پاک ہو چکے ہیں، جبکہ پاکستان اور افغانستان وہ واحد ممالک رہ گئے ہیں جہاں پولیو اب بھی بچوں کے لیے خطرہ ہے۔ انسداد پولیو مہم میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینا ہم سب کا قومی فریضہ ہے۔
مزید معلومات کیلئے رابطہ کریں:
Ms. Hania Naeem, Communications Officer, NEOC, +923431101988