اسلام آباد، 1 جون، 2024 – عید الاضحی کے موقع پر متوقع زیادہ سفری سرگرمیوں سے قبل 66 اضلاع میں 3 جون سے شروع ہونے والی خصوصی انسدادِ پولیو مہم کے دوران پانچ سال سے کم عمر کے 16.5 ملین سے زائد بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلائے جائیں گے۔
پانچ روزہ مہم 36 اضلاع میں مکمل اور جزوی طور پر 30 اضلاع میں منعقد کی جارہی ہے جن میں اسلام آباد، بلوچستان کے 20 اضلاع، خیبر پختونخوا کے 23 اضلاع، سندھ کے 16 اور پنجاب کے 6 اضلاع شامل ہیں۔
وزیر اعظم کے کوآرڈینیٹر برائے قومی صحت ڈاکٹر ملک مختار احمد بھرتھ نے والدین اور دیکھ بھال کرنے والوں پر زور دیا کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ اس مہم کے دوران ان کے بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے لازمی پلائیں جائیں۔
انہوں نے کہا، "پولیو وائرس نے رواں سال اب تک 04 بچوں کو متاثر کیا ہے اور یہ وائرس مسلسل سیوریج کے نمونوں میں پایا جارہا ہے جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ بچوں کیلئے خطرہ برقرار ہے۔"انہوں نے مزید کہا کہ حکومت عید سے قبل انتہائی اہم پولیو مہم کا آغاز کر رہی ہے تاکہ نہ صرف لوگوں میں پولیو وائرس کی منتقلی کو روکا جاسکے بلکہ زیادہ سے زیادہ بچوں تک ویکسین کی رسائی کو ممکن بنایا جاسکے۔
انہوں نے مزید کہا کہ "ہم اپنے ملک سے پولیو کے خاتمے کیلئے پرعزم ہیں اور اس مقصد کو حاصل کرنے میں والدین اور کمیونٹیز کا تعاون بہت ضروری ہے۔"
یہ رواں سال کی پانچویں انسدادِ پولیو مہم ہے۔
ملک میں جاری گرمی کی لہر کے پیش نظر پاکستان پولیو پروگرام نے فرنٹ لائن ہیلتھ ورکرز کیلئے خصوصی گائیڈ لائنز جاری کر دی ہیں جس میں انھیں گرمی سے متعلق ہدایات پر مؤثر طریقے سے عمل کرنے کی ترغیب دی گئی ہے۔
کام کے اوقات کو دن کے ٹھنڈے حصوں (جیسا کہ صبح جلدی یا دیر شام کو) ایڈجسٹ کریں، ہلکے رنگ کا ڈھیلا ڈھالا لباس پہننے اور براہ راست سورج کی روشنی سے بچنے کیلئے سر کو ڈھانپیں ، ہائیڈریٹ رہنے کیلئے وافر مقدار میں پانی کا استعمال کریں، دوران وقفہ سایہ دار درختوں کے نیچے آرام کریں، ہیلتھ ورکرز کو گرمی سے وابستہ بیماریوں سے متعلق آگاہ کریں ، ویکسین کی کولڈ چین کو برقرار رکھیں ، ان اقدامات پر عملدرآمد کے زریعے نہ صرف فرنٹ لائن ورکرز کی حفاظت کو یقینی بنانا بلکہ مشکل ترین موسم کے باوجود ہر بچے تک ویکسین کی رسائی کو یقینی بنانا ہے۔
نوٹ برائے ایڈیٹر:
پولیو ایک لاعلاج بیماری ہے جس سے پانچ سال تک کی عمر کے بچوں کو سب سے زیادہ خطرہ ہے۔ اس وائرس سے بچے عمر بھر کے لیے معذور ہو سکتے ہیں، حتیٰ کہ کچھ کیسز میں بچوں کی موت بھی واقع ہو سکتی ہے۔ پانچ سال سے کم عمر کے تمام بچوں کو اس موذی مرض سے پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلوا کر بچایا جا سکتا ہے، اور وائرس کو پھیلنے سے روکا جا سکتا ہے۔ متعدد بار پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلوانے سے دنیا کے تمام ممالک پولیو سے پاک ہو چکے ہیں، جبکہ پاکستان اور افغانستان وہ واحد ممالک رہ گئے ہیں جہاں پولیو اب بھی بچوں کے لیے خطرہ ہے۔ انسداد پولیو مہم میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینا ہم سب کا قومی فریضہ ہے۔
مزید معلومات کیلئے رابطہ کریں:
Ms. Hania Naeem, Communications Officer, NEOC, +923431101988