اسلام آباد، 6 اگست 2024 – بلوچستان کے ضلع قلعہ عبداللہ میں ایک 11 ماہ کا بچہ پولیو وائرس سے معذور ہوگیا ہے جس کے بعد ملک میں رواں سال پولیو کیسز کی تعداد 13 ہوگئی ہے۔
قومی ادارہ صحت میں قائم انسداد پولیو لیبارٹری کے مطابق متاثرہ بچے میں معذوری کی اعلامات 17 جولائی کو ظاہر ہوئیں۔
بلوچستان سے مسلسل پولیو کیسز پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے وزیراعظم کے کوآرڈینیٹر برائے قومی صحت ڈاکٹر ملک مختار بھرتھ نے کہا کہ پولیو کی موجودگی ملک میں ہر بچے کے لیے خطرہ ہے اور پولیو اور دیگر ویکسینز کی اہمیت کو اجاگر کرتی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ بچوں کو اس موذی مرض سے بچانا حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ ’ہم صوبائی حکومت کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں تاکہ صوبے میں ویکسنیشن کی شرح کو بڑھایا جا سکے اور بچوں میں اس بیماری کے خلاف قوت مدافعت پیدا کی جا سکے۔‘
وزیراعظم کی فوکل پرسن برائے پولیو عائشہ رضا فاروق نے کہا کہ بلوچستان میں پولیو کا پھیلاؤ زیادہ ہے خاص طور پر کوئٹہ، چمن اور قلعہ عبداللہ جیسے اضلاع میں جو ماضی میں وائرس کا گڑھ رہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ وہ گذشتہ ہفتے بلوچستان کے دورے پر وزیراعلیٰ سرفراز بگٹی اور دیگر اعلیٰ حکام سے ملی ہیں اور صوبائی حکومت ہنگامی بنیادوں پر اس صورت حال سے نمٹ رہی ہے۔
ستمبر میں شروع ہونے والی انسداد پولیو مہم کی تیاریوں میں پولیو پروگرام کی نیشنل پولیو مینیجمنٹ ٹیم کا اجلاس بھی رواں ہفتے جاری ہے۔
عائشہ رضا نے کہا: ’پولیو وائرس بہت ہوشیار ہے اور ہماری خامیوں کو ظاہر کرتا رہا ہے، جیسے کہ کن علاقوں میں بچے پولیو ویکسین یا حفاظتی ٹیکوں سے محروم رہ گئے ہیں۔ ہم ہمارے صوبائی ساتھیوں کے ساتھ مل رہے ہیں تاکہ ان کمیوں کو پورا کیا جائے اور وائرس کے پھیلاؤ کو روکا جائے۔‘
انہوں نے کہا کہ گذشتہ ہفتوں میں پولیو پروگرام نے تمام صوبوں کے ساتھ مشاورت کے ساتھ ایک وسیع جائزہ لیا ہے اور وائرس کی منتقلی کو روکنے کے لیے ایک جامع روڈ میپ کو نافذ کرنے کے عمل میں ہے، خاص طور پر پولیو سے زیادہ خطرے میں اضلاع میں۔
ہر بچے کے لیے پولیو ویکسین کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پولیو پروگرام سال میں متعدد بار شہریوں کی دہلیز پر پولیو ویکسین پہنچاتا ہے جس میں والدین کے تعاون کی سب سے زیادہ اہمیت ہے کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ ان کے پانچ سال سے کم عمر کے تمام بچے ہر بار پولیو سے بچاؤ کے قطرے پییں۔
نشنل ایمرجنسی آپریشنز سینٹر کے کوآرڈینیٹر انوار الحق نے کہا کہ بلوچستان ایمرجنسی آپریشنز سینٹر اور صوبائی محکمہ صحت کو اس صورت حال سے نمٹنے کے لی ےوفاقی ٹیموں کا مکمل تعاون حاصل ہے اور پاکستان سے پولیو کے خاتمے کا عزم برقرار ہے۔
یہ پاکستان سے رواں سال کا 13واں، بلوچستان سے 10واں اور قلعہ عبداللہ سے پانچواں کیس ہے۔ اس سے قبل سندھ سے دو اور پنجاب سے ایک کیس رپورٹ ہوچکا ہے۔
نوٹ برائے ایڈیٹر:
پولیو ایک لاعلاج بیماری ہے جس سے پانچ سال تک کی عمر کے بچوں کو سب سے زیادہ خطرہ ہے۔ اس وائرس سے بچے عمر بھر کے لیے معذور ہو سکتے ہیں، حتیٰ کہ کچھ کیسز میں بچوں کی موت بھی واقع ہو سکتی ہے۔ پانچ سال سے کم عمر کے تمام بچوں کو اس موذی مرض سے پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلوا کر بچایا جا سکتا ہے، اور وائرس کو پھیلنے سے روکا جا سکتا ہے۔ متعدد بار پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلوانے سے دنیا کے تمام ممالک پولیو سے پاک ہو چکے ہیں، جبکہ پاکستان اور افغانستان وہ واحد ممالک رہ گئے ہیں جہاں پولیو اب بھی بچوں کے لیے خطرہ ہے۔ انسداد پولیو مہم میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینا ہم سب کا قومی فریضہ ہے۔
مزید معلومات کیلئے رابطہ کریں:
Ms. Hania Naeem, Communications Officer, NEOC, +923431101988