
ڈیرہ غازی خان میں بطور صحت محافظ، پولیو مہم کے دوران مرکزِ صحت پر قبل از وقت پر پہنچنا میری ترجیحات میں شامل ہے۔ مرکز صحت پہنچنے پر، میں سب سے پہلے اپنی حاضری لگاتی ہوں اور صبح سویرے دن بھر کی سرگرمیوں کے حوالے سے منصوبہ بندی کے اہم اجلاس میں اپنی موجودگی کو یقینی بناتی ہوں۔ پھر میں اپنا ویکسین باکس، ٹیلی شیٹ اور عوامی آگاہی پر مبنی اشاعتی مواد ساتھ لے کر فیلڈ میں اپنی ڈیوٹی پر چلی جاتی ہوں۔
جو بات مجھے کامیابی سے ہمکنار کرنے میں مدد فراہم کرتی ہے وہ یہ ہے کہ میں اسی کمیونٹی کا حصہ ہوں جسے میں اپنی خدمات فراہم کرتی ہوں۔ ہم ایک دوسرے کو بڑی اچھی طرح سے جانتے ہیں۔ ہم اپنی خوشی اور غمی کے تمام معاملات پر ایک دوسرے سے اکثر تبادلہ خیال بھی کرتے ہیں۔ میں جب انہی کی زبان میں ان کے ساتھ گفتگو کرتی ہوں تو وہ میرا پیغام اچھی طرح سمجھ جاتے ہیں۔
کمیونٹی میں شامل ہروہ بچہ جو کسی بھی وجہ سے پولیو سے بچاؤ کے حفاظتی قطرے پینے سے محروم رہ گیا ہو اسکی تلاش میرے فرائض میں شامل ہے چاہے وہ بچہ علاقہ چھوڑ کر کسی دوسری جگہ ہی کیوں نہ چلا گیا ہو۔ اگر میں اور میرے علاوہ ملک کا ہر دوسرا ویکسینیٹر اپنی ذمہ داریوں کی مؤثر انداز میں ادائیگی جاری رکھے گا تو وہ دن دور نہیں جب ہم پولیو کیسز کی تعداد کو صفر پر لانے کا حتمی ہدف حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔ پولیو کا مکمل تدارک بچوں کی فلاح و بہتری کے لیے ہے؛ اس میں نا صرف میرے، آپ کے بلکہ سب کے بچے شامل ہیں۔