آج سے بیس سال قبل جب میں پہلی بار پولیو کے تدارک کے اس پروگرام کا حصہ بنی تو اس وقت پاکستان بھر میں پولیو کے موذی وائرس کی وجہ سے مستقل جسمانی معذوری کے شکار کیسز زبان زدِ عام تھے۔ ملک کے کسی بھی حصے میں پولیو زدہ افراد کی موجودگی عمومی طور پر دیکھی جاسکتی تھی۔ ویکسینیشن ٹیم میں شمولیت سے قبل میں نے سب سے پہلے بطور لیڈی ہیلتھ ورکر تربیت حاصل کی ۔

پاکستان میں پولیو کے خلاف جاری لڑائی میں حالیہ کارکردگی میرے اور میری تمام ساتھی ہیلتھ ورکرز کے لیے انتہائی متاثر کُن ہے۔ یہ ایک بالکل مختلف تجربہ ہوتا ہے جب آپ محسوس کرتے ہیں کہ آپ ایک فاتحانہ مقصد کے لیے کام کر رہے ہیں۔ تاہم حتمی مقصد کا حصول ہر ایک شخص کی انفرادی سطح پر پولیو کے خلاف جاری جنگ میں بغیر کسی رکاوٹ کے جدوجہد کو جاری رکھنے پر منحصر ہے۔

پولیو ویکسینیشن کی مہم اور اضافی ایام کے دوران میں روزانہ گھر گھر جا کر بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے حفاظتی قطرے پلاتی ہوں اور دیگر دنوں کے دوران میں واپس جا کر گھروں کے دروازوں پر لگائے گئے نشانات کا معائنہ کرتی ہوں اور یہ دیکھتی ہوں کہ کہیں کوئی بچہ پولیو سے بچاؤ کے حفاظتی قطرے پینے سے محروم نہ رہ گیا ہو۔ انشاءاللہ ! بہت جلد وہ دن آئے گا جبکہ پورا اقوام عالم پولیو کے بے رحم مرض سے ہمارے بچوں اور آئندہ نسلوں کو محفوظ بنانے میں باہمت اور پُرعزم لاکھوں پاکستانی ہیلتھ ورکرز کو ان کی بہترین خدمات کی فراہمی پر زبردست خراج تحسین پیش کرے گا۔