
پولیو کے موذی وائرس کی ممکنہ موجودگی کے علاوہ نکاسی آب اور دیگر ماحولیاتی نمونہ جات کی تشخیص کا عمل اس موذی وائرس کے پھیلاؤ کے روک تھام میں انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔
ملک بھر کے 33 اضلاع سے 53 کے قریب ماحولیاتی نمونہ جات کے اکھٹے کیے جانے کے بعد اس موذی وائرس کے پنپنے کے عمل کی نگرانی اور تشخیص کے حساس ترین عمل کی اہمیت میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔ پاکستان میں رائج اس نظام کو دنیا کا سب سے بڑا اور مربوط تشخیصی نیٹ ورک تصور کیا جا رہا ہے۔