
ملازمت سے قطعہ نظر، بچوں کو پولیو کے موذی مرض سے تحفظ فراہم کرنا میرا جنون بن چکا ہے۔ ہماری تربیت یافتہ ہیلتھ ورکرز ،والدین، مقامی عمائدین اور کمیونٹی کے ہر با اثر افراد کے تعاون سے میں اپنی خدمات سرانجام دیتی ہیں۔ ہم ایسے گھرانو ںکی تلاش بھی کرتے ہیں جہاں بچے کی پیدائش متوقع ہو ،تاکہ ہم ان بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے حفاظتی قطرے پلا کر ان میں زندگی کی بہترین شروعات کی فراہمی کو یقینی بنا سکیں۔
قطرے پلا دیے گئے ہیں اور کون سے بچے ابھی تک پولیو ویکسین سے محروم ہیں۔ اسی لیے ہم اپنے پاس تمام بچوں کا ریکارڈ رکھتے ہیں تاکہ کمیونٹی کا کوئی ایک بھی بچہ چاہے وہ کسی کے گھر مہمان ہی کیوں نہ آیا ہو، پولیو مہم کے دوران اس موذی مرض سے بچاؤ کے حفاظتی قطرے پینے سے محروم نہ رہ جائے۔
اگرچہ پولیو کے حفاظتی قطرے پینے سے محروم رہ جانے والے بچوں تک رسائی کے لیے ہمیں اپنی جدوجہد جاری رکھنی ہے کیونکہ پولیو کے تدارک میں ابھی تک مکمل کامیابی حاصل نہیں کی جاسکی۔ یہاں تک کہ اگر پولیو وائرس کی موجودگی کسی ایک ضلع تک بھی محدود رہتی ہے تب بھی ہم اسے پولیو کے مکمل خاتمے کی کامیابی قرار نہیں دے سکتے۔ جب تک پولیو وائرس کی تشخیص کے قوی شواہد موجود ہیں تب تک ملک کا ہر بچے ممکنہ خطرے سے دوچار ہے۔
ہم اس وقت تک اپنی جدوجہد کو ترک نہیں کر سکتے جب تک ہر ضلع کو پولیو سے محفوظ قرار نہ دے دیا جائے۔