میں کوئٹہ کے مختلف زونز میں پولیو ٹیم کو رہنمائی فراہم کرنے کے لیے بطور نگران اپنے فرائض سرانجام دیتا ہوں اور میری کارکردگی کو ہمیشہ ضلعی انتظامیہ کی جانب سے سراہا گیا ہے۔ میں اس بات پر فخر محسوس کرتا ہوں کہ جب کبھی بھی پولیو ٹیم کو کسی سنگین نوعیت کا مسئلہ درپیش ہوتا ہے تو انکی رہنمائی کے لیے متعلقہ حکام بالا اس مخصوص علاقے میں تعیناتی کے لیے میرا انتخاب کرتے ہیں۔

امن و امان کی غیر یقینی صورتحال کی وجہ سے بلوچستان کے کچھ انتہائی حساس علاقوں میں ویکسینیٹرز کو پولیو سے بچاؤ کے حفاظتی قطرے پینے سے محروم رہ جانے والے بچوں تک رسائی کے معاملے میں اکثر دشواری کا سامنا رہتا ہے۔ لیکن صبر و تحمل اور مستقل مزاجی سے ایسی صورتحال سے بطریقِ احسن نمٹا جاسکتا ہے۔ مجھے بہت تکلیف ہوتی ہے جب میں کسی بچے کو پولیو کا موذی مرض لاحق ہونے کی وجہ سے جسمانی معذوری کا شکار دیکھتا ہوں۔ حالانکہ بغیر کوئی پیسہ خرچ کیے دستیاب پولیو سے بچاؤ کے حفاظتی قطروں کے پلانے سے بچے کو اس موذی مرض سے تحفظ فراہم کیا جاسکتا ہے۔ دریں اثناء یہ تکلیف دہ بات مجھے اپنی جدوجہد پہلے سے زیادہ مؤثر انداز کے ساتھ جاری رکھنے کے لیے توانائی فراہم کرتی ہے تاکہ ہمارے بچوں اور آئندہ آنے والی نسلوں کو اس موذی مرض سے بچاؤ کے لیے مستقل تحفظ کی فراہمی کو یقینی بنایا جاسکے۔

پولیو کے خاتمے کے امکانات مجھ میں ایک امید جگائے رکھتے ہیں کہ علاقہ مکینوں کے صحت محافظوں کے ساتھ باہمی تعاون کی مدد سے ہم جلد پولیو کے موذی وائرس کو شکست دینے میں کامیابی حاصل کر لیں گے۔