پاکستان اور افغانستان کے لیے تکنیکی مشاورتی گروپ (TAG) برائے پولیو تدارک کے چیرمین، ڈاکٹر جین-مارک اولیو اور TAG رکن ڈاکٹرکرس موری نے حال ہی میں پاکستان کا سہہ ہفتہ دورہ مکمل کیا ہے۔ اس دورے کا بنیادی مقصد پاکستان میں پولیو تدارک کے حوالے سے موجودہ صورتحال اور بالخصوص نیشنل ایمرجنسی ایکشن پلان برائے 2016/17 کے نفاذ کے لیے مجوزہ اقدامات کا جائزہ لینا تھا۔ اس دوران TAG ٹیم نے اسلام آباد، کراچی، شمالی سندھ، پشاور، گریٹر پشاور، کوئٹہ بلاک، لاہور اور ملتان کے علاقوں کا دورہ کیا اور پروگرام سے منسلک سربراہان، تکنیکی سٹاف اور بالخصوص صف اول میں خدمات پیش کرنے والے کارکنان سے براہ راست بالمشافہ ملاقاتیں کیں اور صورتحال کا جائزہ لیا۔
یہ دورہ عالمی سطح پر پولیو تدارک کے حوالے سے حاصل ہونے والی نمایاں کامیابیوں کا جائزہ لینے کے تناظر میں تشکیل دیا گیا تھا۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ رواں سال 2016 میں پولیو کے صرف 34 کیس رپورٹ ہوئے جبکہ سال 2015ء میں یہ تعداد 72 جبکہ 2014ء میں پولیو کیسز کی تعداد 359 ریکارڈ کی گئی۔ نائجیریا، پاکستان اور افغانستان پولیو سے متاثرہ ممالک کی فہرست میں سے بقایا رہ جانے والے تین ممالک ہیں جہاں یہ موذی مرض آج بھی سر اٹھائے اپنی موجودگی کا احساس دلا رہا ہے۔ رواں سال 2016ء میں اب تک پولیو کے کل 18 کیسز کی تصدیق ہوئی جبکہ گذشتہ سال 2015ء میں ماہ نومبر تک تصدیق شدہ پولیو کیسز کی تعداد 51 تھی۔ حالیہ اعدادو شمار بتاتے ہیں کہ پولیو کیسز کی تعداد میں میں 34 فیصد کے قریب کمی واقع ہوئی ہے یعنی 100،000بچوں میں سے سالانہ 5۔0 کیسز جو کہ خوش آئند ہے۔ رواں سال میں سب سے نمایاں کامیابی جو اس ضمن میں حاصل ہوئی ہے وہ کراچی اور خیبر-پشاور میں پولیو وائرس کی آماجگاہوں میں غیر یقینی حد تک کمی ہے۔ ماہ فروری تک ان علاقوں سے پولیو کا ایک بھی کیس سامنے نہیں آیا جبکہ اپریل 2016 تک ان علاقوں سے ایسے کوئی شواہد نہہں ملے جو یہاں پولیووائرس کی مستقل موجودگی کا پتہ دیں۔
تکنیکی مشاورتی گروپ TAG نے پروگرام اپریشنز، رسک مینجمنٹ ملک بھر میں اس موذی وائرس کی ممکنہ موجودگی کے حوالے سے نگرانی کے مربوط نظام اور NEAP کے نفاڈ کے حوالے سے اٹھائے جانے والے اقدامات کو خوب سراہا۔ ان تمام اقدامات کے باعث اس موذی وائرس کی ممکنہ آمجاگاہوں میں نمایاں کمی دیکھنے میں آئی ہے۔ڈاکٹر اولیو نے NEAP کے تحت مرکزی اہمیت کے حامل اقدامات پر عمل درآمد کو یقینی بنانے پر زور دیا۔ علاوہ ازیں ان کا کہنا تھا کہ گھر کے اندر موجود ہر بچے کو پولیو ویکسینیشن کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے خواتین کی خدمات کے حصول میں ہر ممکن اضافہ کیا جائے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان اور افغانستان کے سرحدی علاقوں سے بچوں کی آمدورفت اس موذی مرض کے پھیلائو کے حوالے سے انتہائی تشویشناک ہے بالخصؤص مرکزی اور جنوبی راستہ پکتیا-جنوبی وزیرستان، قندھار-ہلمنداور کوئٹہ کے علاقےابھی بھی اس موذی وائرس کی ممکنہ آماجگاہیں ہیں۔ شمالی سندھ کے علاقوں میں نمایاں کامیابیاں حاصل ہوئی ہیں جبکہ اس ضمن میں مزید بہتری کی گنجائش موجود ہے اور اس کے لیے ٹھوس اقدامات اٹھانے کی ضرورت کو پس پشت نہیں ڈالا جا سکتا۔TAG چیئر مین نے اپنے اختتامی کلمات میں NAEP کے مکمل نفاذ، نگرانی کے نظام میں استحکام اور پولیو تدارک میں حاصل ہونے والی کامیابیوں کا دائرہ کار وسیع کرنے پر خصوصی زور دیا۔
وزیر اعظم کی ترجمان برائے پولیو تدارک پروگرام، سینیٹر عائشہ رضا فاروق نے ڈاکٹر اولیو کے خیالات کو سراہتے ہوئے بیش قیمت تجاویز اور رہنمائی فراہم کرنے پر ان کا شکریہ ادا کیا۔ ان کا کہنا تھا "پاکستان پولیو وائرس کے پھیلائو کی روک تھام کے حوالے سے کامیابی کی حد کے بہت قریب پہنچ چکا ہے تا ہم پولیو کے مکمل تدارک سے کیسز کی تعداد صفر کرنے میں ہماری سفر ابھی بھی جاری و ساری ہے۔ اور اس کے لیے ہمیں اپنی جدوجہد میں مزید استحکام اور تیزی لانا ہو گی"۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ حکومتی ذمہ داران پولیو تدارک کے حوالے سے مکمل طور پر پر عزم ہیں اور ان ضمن میں ممکنہ خدشات کو دور کرنے کے لیے اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں۔