پولیو تدارک میں تعاون کے حوالے سے پاکستان کے قومی اسلامی مشاورتی گروپ(NIAG)کا جائزہ اجلاس

ثاقب مغل

پاکستان میں پولیو تدارک        (PEI) اور بیماریوں کے خلاف  توسیعی مدافعتی پروگرام (EPI) پر مشتمل اقدامات کو استحکام بخشنے کے لیے مذہبی عمائدین اور ترقی پسند ماہرین پر مشتمل قومی اسلامی مشاورتی گروپ (NIAG) کا جائزہ اجلاس 19 نومبر 2016 کو منعقد ہوا جس میں پولیو تدارک میں تعاون کے لیے آئندہ کی حکمت عملی پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

مشاورتی گروپ (NIAG) کے تمام اراکین نے متفقہ طور پر پولیو تدارک پروگرام میں مکمل تعاون کی یقین دہانی کراتے ہوئے ماں اور بچے کی صحت کے حوالے سے پاکستان میں جاری دیگر پروگراموں میں تعاون بارے بھی دلچسپی کا اظہار کیا۔

مصر کے شہر قاہرہ میں مارچ 2013ء کو اسلامی مشاورتی گروپ کے منعقدہ اجلاس میں پیش کردہ سفارشات کے نتیجے میں مذکورہ سال جون کے مہینے میں NIAG کی بنیاد ڈالی گئی۔ پاکستان کے قومی اسلامی مشاورتی گروپ (NIAG) کے زیر اہتمام پولیو ویکسینیشن کی حمایت میں جون 2014ء کو بین الاقوامی علماء کانفرنس کا انعقاد کیا گیا۔   پاکستان میں مختلف طبقات  کے مذہبی رہنماؤں کو پولیو ویکسینیشن کی اہمیت  اجاگر کر نے کے حوالے سے  اس گروپ نے بہت اہم کردار کیا ہے  اور یقینی طور پر آئندہ مستقبل قریب میں یہ تمام کاوشیں پاکستان کے تمام طبقات کے ساتھ اعتماد سازی اور پولیو مہم کے حوالے سے پیدا کی گئی مختلف غلط فہمیوں کو دور کرنے کے عمل میں مددگار ثابت ہوں گی۔

اس مشاورتی گروپ( NIAG) کی جانب سے کئے جانے والے حالیہ اقدامات میں سے ایک انتہائی اہم قدم گروپ میں خواتین کی نمائندگی میں توسیع ہے جسے ہر سطح پر سراہا جا رہا ہے۔ مشاورتی گروپ( NIAG ) میں دو خواتین نمائندگان سمیعہ راحیل قاضی اور زاہدہ بشیر کی شمولیت مختلف طبقات کے مابین اعتماد سازی کے لیے ایک سنگِ میل کی حیثیت رکھتی ہے۔ سمیعہ راحیل قاضی کا کہنا ہے، "معاشرے سے پولیو کے مکمل خاتمے کے لیے ہمیں علاقے کے با اثر افراد، مذہبی عمائدین اور بالخصوص خواتین کی مدد درکار ہے"۔ انکا مزید کہنا تھا، "ماں اور بچے کو ایک دوسرے سے جدا نہیں کیا جا سکتا اور ہم اس وقت تک بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے حفاظتی قطرے یا دیگر بیماریوں سے بچاؤ کے حفاظتی ٹیکہ جات نہیں دے سکتے جب تک ان کی مائیں اپنے بچوں کو ویکسینیشن دلانے کے لیے رضامند نہ ہوں"۔

مولانا حنیف جالندھری جو کہ مشاورتی گروپ (NIAG )کے بانی اراکین میں سے ایک ہیں، گروپ میں خواتین کی شمولیت کو سراہتے ہوئے اسے پاکستان میں پولیو تدارک کے لیے جاری جدوجہد میں ایک انتہائی اہم پیش رفت قرار دیا ہے۔ انکا کا کہنا تھا، "پاکستان کی کُل آبادی کا ٪50 سے زائد حصہ خواتین پر مشتمل ہے ،صحت سے متعلق ملک میں جاری پروگراموں جیسا کہ پولیو تدارک پروگرام میں خواتین کی شمولیت انتہائی اہمیت  کی حامل ہے ۔ پولیو اوردیگر بیماریوں سے بچاؤ کے لیے ویکسینیشن دلانے کے عمل میں بچوں کی مائیں  مرکزی حیثیت رکھتی ہیں"۔

مذہبی معاون کاروں (RSPs) اور صوبائی سطح پر علماء ٹاسک فورس (PSTF) کے ذریعے مذہبی نقطہ نظر سے پیدا ہونے والی غلط فہمیوں کو دور کرنے میں جہاں اہم پیش رفت سامنے آئیں ہیں وہیں انتہائی اہمیت کے مختلف اضلاع میں پولیو ویکسینیشن سے انکاری کیسز کی تعداد میں نمایاں حد تک کمی بھی دیکھنے میں آئی ہے۔ امید کی جاتی ہے کہ مشاورتی گروپ( NIAG) میں خواتین کی شمولیت سے پولیو ویکسینیٹراور ایک ماں کے درمیان حائل خلیج کو دور کرنے اور ممکنہ طور پر متاثرہ علاقوں میں اعتماد سازی کی فضا قائم کرنے میں خاطر خواہ مدد ملے گی۔

پولیو پروگرام میں بطور ہائی رسک کوارڈینیٹر خدمات سرانجام دینے والے ڈاکٹر اعظم نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا ، "ہم سمیعہ راحیل قاضی صاحبہ کے انتہائی ممنون ہیں کہ انہوں نے مشاورتی گروپ( NIAG )میں رکنیت کے لیے ہماری درخواست کو قبول کرتے ہوئے اسے عملی جامہ پہنایا اور ہم امید کرتے ہیں کہ اس بے مثال اقدام سے نہ صرف لوگوں میں اعتماد بحال ہو گا بلکہ پولیو ویکسیننیشن سے انکاری کیسز کی تعداد میں بھی نمایاں کمی واقع ہوگی"۔ انکا مزید کہنا تھا کہ "حالیہ اٹھائے جانے والے اقدامات کے تحت اعتماد سازی اور ویکسینیشن سے انکاری کیسز کی تعداد میں کمی کی صورت میں حاصل ہونے والے نتائج حوصلہ افزاء ہیں اور اسی طرح کے دیگر اقدامات کی بدولت آئندہ مستقبل میں پولیو پروگرام کے لیے طے کردہ دیگر اہداف کے کامیاب حصول میں بھی خاطر خواہ مدد ملےگی۔