اسلام آباد: 29نومبر2016: جاپان حکومت، جاپان انٹرنیشنل کوارڈینیشن ایجنسی (JICA) اوراقوام متحدہ کے ادارے یونائیٹڈ نیشنز چلڈرن فنڈ (UNICEF) کے مابین آج ایک معاہدے پر دستخط کیے گئے جس کے تحت جاپانی حکومت پولیو سے بچاؤ کے پروگرام "منصوبہ برائے پولیو کنٹرول و تدارک" کے 404 ملین جاپانی ین4) ملین امریکی ڈالر( کی مالی امداد فراہم کرے گی۔
حالیہ معاہدے کے تحت حاصل ہونے والے مالی تعاون سے پولیو سے بچاؤ کے حفاظتی ٹیکوں (IPV) کی 3.9 ملین کے قریب خوراکوں اور دیگر متعلقہ سامان کی خریداری میں مدد ملے گی جو کہ پاکستان میں پولیو وائرس سے شدید متاثرہ اضلاع میں موجود چار سے تئیس ماہ کی عمر کے تقریباَ 3.3ملین بچوں کو اس موذی وائرس سے تحفظ فراہم کرنے کے لیے کافی ہے۔
معاہدے پر دستخط کیلئے منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان میں پولیو تدارک کے لیے جاری پروگرام پر وزیر اعظم کی ترجمان، سینیٹر عائشہ رضا فاروق کا کہنا تھا: "پاکستان میں پولیو وائرس کی موجودہ صورتحال آج سے پہلے اتنی اطمینان بخش کبھی نہ تھی اوربلاشبہ پولیو تدارک کے اس مشن میں کامیابی اب زیادہ دور نہیں۔اگرچہ ہم اپنے اہداف کے حصول کے بہت قریب پہنچ چکے ہیں لیکن اس کیلئے ہم سب کو انتہائی ایمانداری کے ساتھ اپنی اپنی ذمہ داری ادا کرنا ہوگی۔ میں اس پر مسرت مو قع پر جاپان حکومت کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرتی ہوں کہ انہوں نے پولیو کے مکمل تدارک اور ویکسین سے محروم تمام بچوں تک رسائی میں پاکستان کی انتھک جدوجہد کو تقویت بخشنے میں اپنے بے مثال تعاون کی یقین دہانی کرائی ہے"۔
غیر معمولی شخصیت اور امور خارجہ کے ماہر، پاکستان میں تعینات جاپان کے سفیر تاکاشی کورائی پولیو کنٹرول میں حالیہ پیش رفت پر انتہائی پر امید ہیں۔ جاپانی سفیر کا کہنا تھا ،"ہم امید کرتے ہیں کہ ویکسینیشن مہموں کے دوران پولیو سے بچاؤ کے حفاظتی ٹیکوں (IPV) کے استعمال سے نومولود اور دو سال سے کم عمر کے تمام بچوں میں اس موذی وائرس کے خلاف قوت مدافعت بڑھانے اور پولیو کے ممکنہ پھیلاؤ کی روک تھا م میں یقینی مدد ملے گی"۔
پاکستا ن میں جائیکا (JICA) کے نمائندہ سربراہ یاسوہیرو توجو (Yasuhiro Tojo)کا کہنا تھا، "پاکستان میں پولیو کیسز کی تعداد میں کمی انتہائی خوش آئند ہے۔اور اب وقت آ گیا ہے کہ پولیو کے مکمل تدارک کے لیے ہم سب ملکر جدوجہد کے اس آخری مرحلے کو پایہ تکمیل تک پہنچا دیں۔ہم امید کرتے ہیں کہ معاہدے کے تحت اس مالی تعاون کے ذریعے آئندہ آنے والی نسلوں کی زندگیوں کو پولیو کےموذی وائرس سے ہمیشہ کے لیے تحفظ فراہم کرنے میں مدد ملے گی"۔
پاکستان میں یونیسیف (UNICEF) کی نائب نمائندہ ،مس کرسچین منڈوایٹ (Cristian Munduate) کا کہنا ہے "جاپان پاکستان کے بچوں کا باعتماد اور قابل قدر معاون کار ہے۔ یونیسیف (UNICEF) پاکستان میں پولیو تدارک پروگرام کے لیے اس بے مثال مالی تعاون کی فراہمی پر جاپان کی عوام اور حکومت کا انتہائی مشکور ہے۔ مالی امداد کا یہ معاہدہ اس بات کا مظہر ہے کہ جاپان پاکستانی بچوں کی صحت کو تحفظ فراہم کرنے کے معاملے میں انتہائی سنجیدہ ہے"۔
پاکستان پولیو کے خلاف اس جنگ میں نمایاں کامیابیاں حاصل کر رہا ہے۔ محتاط اعدادو شمار کے مطابق گذشتہ سال پاکستان میں پولیو سے معذور ہونے والے بچوں کی تعداد میں ٪82تک کی کمی دیکھنے میں آئی ہے ۔ گذشتہ سال میں پولیو کے تشخیص شدہ کیسز کی کل تعداد صرف 54 تھی جبکہ سال 2014ء میں یہ تعداد 306 ریکارڈ کی گئی تھی ۔ پولیو کیسز میں اس نمایاں کمی کو ایک بڑی کامیابی قرار دیا جا رہا ہے۔ رواں سال پاکستان نے اس ضمن میں مزید بہتری دکھائی ہےیعنی سال 2015ء میں تشخیص کردہ کیسز کی تعداد 45 سے کم ہو کر سال 2016ء میں اب تک 18 تک آن پہنچی ہے جو کہ انتہائی خوش آئند ہے۔
===============
نوٹ برائے ایڈیٹرز:
جاپان کی حکومت سال 1996ء سے پاکستان میں پولیو تدارک کے پروگرام میں گراں قدر تعاون فراہم کر رہی ہے۔ محتاط اعدادو شمار کے مطابق اب تک جاپانی حکومت پولیو ویکسین کے قطروں (OPV) اور پولیو سے بچائو کے حفاظتی ٹیکوں (IPV) کی خریداری ، علاوہ ازیں ویکسین کو محفوظ اور کار آمد رکھنے کے لیے سرد خانوں کے نظام کی ترویج کے لیے 23 ارب جاپانی ین (216.53ملین امریکی ڈالر)کی مالی امداد فراہم کر چکی ہے۔
پاکستان میں جاری پولیو تدارک پروگرام میں پولیو سے بچاؤ کے حفاظتی ٹیکوں (IPV) کے استعمال کا رواج سال 2016ء میں منعقدہ پولیو مہموں کے دوران عمل میں آیا ۔جس کا بنیادی مقصد پولیو وائرس کی ممکنہ موجودگی کے انتہائی تشویشناک علاقوں جیسے صوبہ سندھ، بلوچستان اور خیبر پختونخواہ کے چند اضلاع، علاوہ ازیں فاٹا کی کچھ قبائلی علاقہ جات کے بچوں میں اس موذی مرض کے خلاف قوت مدافعت میں اضافہ کرنا تھا۔ سال 2015ء میں ویکسین فراہمی کے اس طریقہ کو ملک بھر میں حفاظتی ٹیکوں کے معمول کے شیڈول میں متعارف کرایا گیا۔ ویکیسن کے قطروں اور حفاطتی ٹیکوں کے مشترکہ استعمال سے پولیو کے خلاف آہنی تحفط کے حصول میں مدد حاصل ہوتی ہے۔
پولیو ایک انتہائی موذی مرض ہے جو کہ خاص طور پر پانچ سال سے کم عمر کے بچوں کو بڑی تیزی سے اپنی لپیٹ میں لیتا ہے۔یہ اعصابی نظام کو بڑی تیزی سے متاثر کرتا ہے جو کہ صرف چند گھنٹوں میں عمر بھر کی جسمانی معذوری کا سبب بن سکتا ہے۔ یہ وائرس ایک انسان سے دوسرے انسان میں فضلات اور گندگی کی وجہ سے بڑی تیزی سے منتقل ہوتا ہے جب کہ دوسرے درجے پر آلودہ پانی اور خوارک بھی آنتوں میں اس موذی وائرس کی تخلیق کا سبب بن سکتی ہے۔
مزید معلومات کے لیے رابطہ کیجئیے:
ساجد حسین شاہ، پبلک ریلیشن آفیسر (PRO) منسٹری آف نیشنل ہیلتھ سروسز ریگولیشن اینڈ کوارڈینیشن (MoNHSR&C)
03006305306, sajidshahpro@gmail.com
ساجد عباسی، سفارتخانہ جاپان
Phone: +92-51-907-2500, Email: sajid.abbasi@ib.mofa.go.jp
زبیر احمد (پبلک ریلیشنز)، جائیکا (JICA) پاکستان آفس
+92 51 924-4500, Email: ZubairMuhammad.PT@jica.go.jp