تمام تعریفیں صرف اور صرف اللہ کے لیے ہیں اور پیغمبر حضرت محمد صلی اللہ و علیہ وسلم، ان کی آل اور صحابہ پر اللہ کی برکتیں نازل ہوں
ہر سال ماہ اکتوبر کی 24 تاریخ کو عالمی دنیا اس تلخ حقیقت کی یاد میں پولیو کا عالمی دن مناتی ہے کہ کیسے ہزاروں سالوں سے پولیو کے موذی وائرس کے باعث لاکھوں بچے جسمانی معذوری اور موت کا شکار ہوتے آ رہے ہیں اور آج بھی یہ خطرناک وائرس نہ صرف دنیا کے مختلف حصوں میں اپنی موجودگی کا احساس دلا رہا ہے بلکہ مستقبل کے لیے ایک بڑا خطرہ تصور کیا جا رہا ہے۔پولیو کے عالمی دن کے موقع پر یہاں ہمیں ایک اور اہم بات یاد رکھنے کی ضرورت ہے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے طبی تحقیقی کے نتیجے میں دریافت کیے جانے والے ذریعہ علاج سے ہم پر اپنی خصوصی رحمت نازل فرمائی ہے جس کے استعمال سے ناصرف ہم پولیو کے اس موذی وائرس کو اپنے بچوں پر حملے سے مکمل اور مظبوط تحفظ فراہم کر سکتے ہیں بلکہ کرہ ارض سے اس موذی وائرس کا ہمیشہ کے لیے تدارک بھی ممکن ہے۔پیغمبر حضرت محمد صلی اللہ و علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ "اللہ تعالیٰ نے دنیا میں کوئی بھی ایسا مرض پیدا نہیں کیا جس کا علاج اور شفاء تخلیق نہ کی گئی ہو " (صحیح بخاری) ۔
پولیو تدارک کے لیے جدوجہد کاآغاز چند دہائیوں قبل پولیو ویکسین کی دریافت کے ساتھ ہی شروع کر دیا گیا تھا۔یہ ویکسین بچوں کو پولیو اور اس موذی وائرس کے باعث پیدا ہونے والی صحت کی دیگر پیچیدگیوں سے تحفظ فراہم کرتی ہے۔دینا بھر کے سیکڑوں ممالک میں لاکھوں بچوں کو اپنی بھینٹ کا شکار بنانے کے بعد پولیو کا موذی وائرس آج بھی دنیا کے تین ممالک کے مختلف علاقوں میں موجود ہے۔جبکہ گذشتہ چند سالوں سے پولیو کے کیسز کی تعداد میں نمایاں کمی دیکھنے میں آئی ہے جو کہ خوش آئند ہے۔علاوہ ازیں پولیو ویکسین سے محروم رہ جانے والے تمام بچوں تک رسائی اور انہیں حفاظتی قطرے پلانے کے لیے تاحال پر عزم جدوجہد جاری ہے۔
اللہ تبارک و تعالیٰ قران مجید میں ارشاد فرماتے ہیں: "بےشک تباہ ہوئے وہ جو اپنی اولاد کو قتل کرتے ہیں،احمقانہ جہالت سے اور حرام ٹھہراتے ہیں وہ جو اللہ نے انہیں روزی دی، اللہ پر جھوٹ باندھنے کو، بےشک وہ بہکے اور راہ نہ پائی (سورۃ الانعام)"۔اسلامک ایڈوائزری گروپ برائے پولیو تدارک(شراکتی معاہدہ مابین الازھر- الشریف، انٹرنیشنل اسلامک فقہاکیڈمی، اسلامی تعاون کی تنظیم (OIC)، اسلامی ترقیاتی بینک (IDB) ہمراہ مذہبی علماء کرام، معلم اورتکنیکی ماہرین )یہاں ایک بار پھر تمام والدین سے اپیل کرتا ہے کہ وہ اپنے بچوں کو پولیو کے کمزور اور قابل علاج مرض سے بچائو کے لیے لازمی پولیو ویکسین دلوائیں بالخصوص وہ تمام بچے جن کی عمریں پانچ سال یا اس سے کم اور وہ آج سے پہلے کبھی بھی پولیو ویکسین سے مستفید نہ ہوئے ہوں۔یہ تمام والدین کا مذہبی فریضہ ہے کہ وہ اپنے بچوں کو پولیو کی ویکسین دلوائیں، بصورت دیگر ان کی غفلت بچوں کے لیے عمر بھی کی جسمانی معذوری کا سبب بن سکتی ہے۔آخری پیغمبر حضرت محمد صلی اللہ و علیہ وسلم کا ارشاد ہے، "کسی کے لیے اس سے بڑا گناہ کوئی نہیں کہ وہ اسے نقصان پہنچائے جسے وہ کھلاتا ہے" (ابودائود)۔
IAGاور پاکستان میں اس کی ذیلی شاخ نیشنل اسلامک ایڈوائزری گروپ(NIAG)گروپ نے مذہبی رہنمائوں اور عمائدین پر بھی اس بات کا زور دیا ہے کہ وہ بچوں کو پولیو کی ویکسین دلانے والے انسانی خدمت کے جذبے سے سرشار پولیو ٹیم کے کارکنان (صحت محافظ) کو تحفظ فراہم کریں جو انتہائی تشویشناک حالات میں بھی ہمارے بچوں کو صحت مند زندگی کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے ان تک رسائی حاصل کرتے ہیں۔ یہ کارکنان ہمارے لیے اللہ کی جانب سے خاص رحمت ہیں۔پولیو کے عالمی دن کے موقع پر، ہم یہاں تمام پولیو ورکرز (صحت محافظوں) کی خدمات کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں اور انہیں مکمل تعاون کی یقین دہانی کراتے ہیں۔یہ پولیو ورکرز اپنی جانیں داؤ پر لگا کر انتہائی تشویشناک علاقوں میں بھی بچوں تک رسائی حاصل کرنے سے گریز نہیں کرتے تاکہ انہیں اس موذی مرض کے خلاف مکمل تحفظ فراہم کر سکیں۔انسانی خدمت سے سرشارپولیو ورکرز (صحت محافظوں) کا جذبہ ہمیں پیغمبر حضرت محمد صلی اللہ و علیہ وسلم کے اس قول کی یاد دلاتے ہیں، "اللہ تبارک وتعالی ٰاس محنت کش کو پسند فرماتے ہیں جسے جو کام دیا جائے وہ اسے ایمانداری کے ساتھ مکمل کرے" (ال طبرانی)۔اللہ تبارک و تعالیٰ ہمارے بچوں کو تمام امراض اور مصیبتوں سے محفوظ رکھے اور انہیں ایک مظبوط اور کارآمد رکن کے طورپرامت کی خدمت توفیق عطا فرمائے۔