اسلام آباد:9مارچ2016- اعلیٰ سطحی گاوی (GAVI)مشن کا کم و بیش ایک ہفتے پر محیط دورہ پاکستان ، پولیو ویکسینیشن اور بچوں کو حفاظتی ٹیکے لگوانے کے پروگرام کو مستحکم کرنے کے لیے حکومتی کوششوں کے لیے تعا رفی کلمات کے ساتھ اختتام پزیر ہو گیا ہے
مذکورہ مشن 4مارچ2016کو پاکستان پہنچا تھا۔ اعلیٰ سطحی مشن نے اپنے حالیہ دورے کے دوران صحت سے متعلق جاری پروگرام کو درپیش مسائل سے نمٹنے میں پاکستان کی کامیابیوں کو خراج تحسین پیش کیا۔ مشن نے اعلیٰ افسران سے ملاقات کے لیے پنجاب کا بھی دورہ کیا۔ انہوں نے سندھ کے دورے کے دوران وزیر اعلیٰ سند ھ سے بھی ملاقات کی ۔ مشن نے اپنے دورے کے دوران بلوچستان اور خیبر پختونخواہ کے صوبائی وزراء برائے صحت سے بھی ملاقاتیں کی تا کہ اس بات کا اعادہ کیا جا سکے کہ پولیو ویکسینیشن اور حفاظتی ٹیکوں لے لیے جاری پروگراموں کو مزید کیسے مستحکم کیا جاسکتا ہے
گاوی مشن نے ملک کے دور افتاہ علاقوں میں پولیوویکسین کی مکمل افادیت کے ساتھ بروقت ترسیل کے لیے کولڈ چین کے نظام کو مزید بہتر کرنے کے لیے بھی اپنی آراء کا اظہار کیا۔ گاوی مشن نے صوبوں کی جانب سے صحت سے متعلق جاری پروگراموں میں مثبت پیش رفت کو جہاں سراہا ہے وہیں انہوں نے بلوچستان میں اس ضمن میں پیدا شدہ خلا کو پُر کرنے، سند ھ میں پروگرام سےوابستہ انسانی وسائل کے معقول انتظام اور پنجاب کے دیہی اور شہری علاقوں میں یکساں مواقعوں کی فراہمی یقینی بنانے پر زور دیا۔ مشن نے پولیو ویکسین اور حفاظتی ٹیکوں کے حوالے سے جاری پروگراموں کے لیے مختص بجٹ کے مکمل اور درست استعمال پر بھی زور دیا۔
وزیر برائے نیشنل ہیلتھ سروسز، ریگولیشن اینڈ کوارڈینیشن نے پاکستانی بچوں کو صحت مند زندگی کی فراہمی کے لیے گاوی کی جانب سے ویکسینیشن کے عمل کو مزید بہتر بنانے کے لیے گذشتہ کئی سالوں سے فراہم کردہ مالی امداد اور ویکسین کی فراہمی جیسی خدمات پر انکا تہہ دل سے شکریہ ادا کیا۔ اعلیٰ سطحی مشن کو آئندہ پانچ سالوں کے لیے تجویز کردہ توسعی پروگرام برائے حفاظتی ٹیکہ جات (ایکسپینڈڈ پروگرام آف امیونائزیشن-EPI) کے حوالے سے قومی اقتصادی کونسل سے منظور شدہ مجوزہ بجٹ دستاویز میں درج چیدہ چیدہ خصوصیات کے بارے میں بھی آگاہ کیا گیا۔ PC-1 کی منظوری پر اس امید کا اظہار کیا گیا کہ مستقبل میں پولیو ویکسین کی خریداری کے لیے فنڈ کے اجراء کا مسئلہ جلد حل کر لیا جائے گا تاکہ اگلے پانچ سالوں کے دوران پولیو ویکسین کے پروگرام کو بلا تعطل جاری رکھنے کے لیے کسی بھی قسم کی مالی رکاوٹ کو ملحوظ خاطر نہ لایا جائے سکے۔
آخر میں وزیر برائے صحت ، سائرہ افضل تارڑ نے اعلیٰ سطحی مشن اور تمام عالمی شراکتی اداروں کے نمائندوں کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے پاکستان میں پولیو ویکسین کے پروگرام کو استحکام بخشنے میں اپنا بھرپور کردار ادا کیا ہے
پولیو ورکرز کی خدمات کو سلام: آصفہ بھٹو زرداری
سندھ سے وابستہ ویکسینیٹرز کا سکھر میں ایک بیٹھک کا انعقاد
سکھر: سندھ سے تعلق رکھنے وا لے صف اول کے پولیو ورکرز کی خدمات کو سراہنے اور انکی حوصلہ افزائی کے لیے صوبہ سند ھ کے تیسرے بڑے شہر سکھر میں ایک بیھٹک کا انعقاد کیا گیا۔ تقریب کا انعقاد انسٹیٹیوٹ آف بزنس ایڈمنسٹریشن کے آڈیٹوریم میں کیا گیا۔ تقریب کی مہمانِ خصوصی سابق صد ر آصف علی زرداری کی دختر آصفہ بھٹو زرداری تھیں جبکہ صوبائی سیکر ٹری صحت، سعید احمد منگنیجو، چیئر پرسن صوبائی مانیٹرنگ کمیٹی اور چیئر پرسن سندھ ایمر جنسی اپریشن سینٹر برائے پولیو، عزرا پجیجو، کوارڈینیٹر ایمر جنسی اپریشن سینٹر سندھ، ڈاکٹر محمد عثمان چاچڑ، چیئرمین برائے پولیو پلس کمیٹی اور نمائندہ برائے روٹری کلب، عزیز میمن، کمشنر سکھر، کمشنر لاڑکا نہ اور ڈائریکٹر آئی بی اے کے علاوہ بختاور بھٹو زرداری نے بھی اس پروگرام میں خصوصی طور پر شرکت کی
اس موقع پر خطاب کر تے ہوئے آصفہ بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ ، " پولیو کے خلاف جاری جنگ میں صف اول کے ان کارکنان کی لازوال خدمات کو سراہنے کے لیے منعقدہ اس بیھٹک میں شرکت میرے لیے انتہائی مسرت کی بات ہے۔ میں نے محسوس کیا ہے کہ اس ہال مہں موجود پولیو پروگرام سے وابستہ افراد بے پناہ صلاحیتوں کے مالک ہیں اور مجھے یقین ہے کہ وہ دن دور نہیں جب ہرایک بچہ جسمانی معذوری کا باعث بننے والی بیماریوں جن کا معمول کی ویکسین سے تدارک ممکن ہے سے محفوظ ایک صحت مند زندگی گزار رہا ہو گا"۔
ان کامزید کہنا تھا کہ ،"میرے لیے اس سے بہتر اور اہم موقع اور کوئی ہو نہیں سکتا جہاں لوگ انتھک محنت سے ایک ایک دروازے پر دستک دیتے ہیں تاکہ پولیو ویکیسین سے محروم رہ جانے والے بچوں کو قطروں کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو ان بچوں کو روشن اور بہتر مستقبل کے ساتھ ساتھ ایک صحت مند زندگی کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے مسلسل اپنا کرادار ادا کرنے میں مصروفِ عمل ہیں ۔ پاکستان میں پولیو کے تدارک کے حوالے سے مثبت پیش رفت دیکھنے میں آ رہی ہے جس کا عملی ثبوت یہ ہے کہ گذشتہ سال رپورٹ ہونے والے300 پولیو کیسز کے مقابلے میں اس سال رپورٹ شدہ کیسزکی تعداد نمایاں کمی کے ساتھ صرف 49 ریکارڈ کی گئی۔ پولیو سے پاک پاکستان کا جو خواب شہید محترمہ بینظیر بھٹو نے دیکھا تھا، اس کو حقیقت بنانے کے لیے میں تمام والدین سے یہ گذارش کروں گی کہ وہ اپنی بچوں کو پولیو سے بچائو کے دوقطرے لازمی پلوائیں"۔
اس موقع پر صوبائی سیکر ٹری برائے صحت، ڈاکٹر سعید منگنیجو کا کہنا تھا کہ حالات کو ئی بھی ہوں صف اول کے پولیو ورکرز اپنی جدوجہد کو جاری رکھے ہوتے ہیں۔ جبکہ ان میں سے کئی ایسے بھی ہیں جنہوں نے اپنے فرائض کی انجام دہی کے دوران اپنی جانوں کا نظرانہ پیش کیا،"آج کا دن اس لحاظ سے بہت اہمیت کا حامل ہے کہ ہم سب اپنے ان بہادر کارکنان کی خدمات کو خراج تحسین پیش کر نے کے لیے یہاں اکھٹے ہوئے ہیں۔ میں امید کرتا ہوں کہ آپ کی خدمات کے اعتراف میں دی جانے والی یہ اسناد آپ کو مزید محنت اور تن دہی کے ساتھ فرائض کی ادا ئیگی میں عزم، جذبہ اور ہمت کی فراہمی میں مددگار ثابت ہونگی
کوارڈینیٹر ایمرجنسی اپریشن سینٹر سندھ، ڈاکٹر محمد عثمان چاچڑ کہنا تھا کہ جب سے سندھ ای او سی (EOC) کا قیام عمل میں آیا ہے تب سے پولیو کے تدارک کے لیے مصروف عمل تمام انفرادی اور شراکتی اداروں کے مابین رابطوں کے نظام میں بہتری آئی ہے، ہم امید کرتے ہیں کہ وہ دن دور نہیں کہ جب پاکستان سے پولیو وائرس کا مکمل خاتمہ کر دیا جائے گا۔
روٹری پاکستان سے نمائندہ ، عزیز میمن نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ روٹری انٹر نیشنل پولیو کے تدارک کے لیے عالمی سطح پر اپنا ہر ممکن کردار ادا کرتی رہی ہے۔ پولیو ورکرز کی خدمات کو سراہتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ جذبے اور ہمت سے سرشار ہمارے ان بہادر کارکنان کو اپنی جدوجہد اس وقت تک جاری رکھنا ہو گی جب تک پاکستان میں پولیو کیسز کی تعداد صفر نہیں ہو جاتی
میڈم عزرا فضل پجیجو، چیئر پرسن ای او سی سندھ نے یہاں موجود صف اول کے پولیو ورکز سمیت خواتین کارکنان کو ان کی گراں قدر خدمات پر خصوصی طور پر خراج تحسین پیش کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ چاہے سردی ہو یا گرمی، بارش ہو یا خشک موسم یہ لوگ اپنا کام جاری رکھتے ہیں اسی وجہ سے یہ بہادر ورکرز اس سے کئی زیادہ ستائش اور خراج تحسین کے مستحق ہیں۔ انہوں نے آئی بی اے انتظامیہ اور کمشنر سکھر کا تقریب کے کامیاب انعقاد پر شکریہ ادا کیا ۔ انہوں نے صف اول کے پولیو ورکرز کے نام اپنے پیغام میں کہا کہ،" یہ سمجھیں کہ آپ پاکستان سے پولیو کے تدارک میں ہماری مدد کر رہے ہیں
تقریب کے اختتام پر آصفہ بھٹو زرداری نے سکھر اور لاڑکانہ ڈویژن سے تعلق رکھنے والے صف اول کے پولیو ورکرز میں انکی خدمات کے اعتراف میں تعریفی اسناد بھی تقسیم کیں۔
سال کی تیسری قومی پولیو مہم 97% کامیابی کے ساتھ اختتام پذیر
اسلام آباد: ملک بھر سے 5 سال سے کم عمر کے تقریباَ 36.8ملین یعنی 3کروڑ68لاکھ کے قریب بچوں تک رسائی کی مہم بڑی کامیابی کے ساتھ تمام اضلاع اور علاقوں میں مکمل کر لی گئی ہے ۔164 میں سے 161 اضلاع سے کارکردگی کی رپورٹ نیشنل ایمرجنسی اپریشن سینٹر کو موصول ہو چکی ہیں۔ تین روزہ مہم اور ایک اضافی دن کی تکمیل کے دوران، کُل 35.19 ملین یعنی 3کروڑ51لاکھ90ہزار(97%)بچوں کو پولیو کے قطرے پلائے گئے۔ سہ روزہ پولیو مہم کے پہلے دور کے دوران کُل تعداد میں سے 3.57 ملین یعنی 35لاکھ70ہزار بچے وہ تھے جنہوں نے پولیو سے بچائو کے قطرے نہیں پیے ہوئے تھے۔ لہذا سہ روزہ مہم کے ایک اضافی دن میں 2.61 ملین یعنی 26لاکھ 10ہزار (73.15%)بچوں کو پولیو سے بچائو کے قطرے پلائے گئے۔ کل تعداد میں سے 83,332 بچوں کے والدین نے انہیں پولیو کے قطرے پلوانے سے ابتدائی طور پر انکار کر دیا تھا ۔ تاہم بعد میں ایک اور کوشش کے ذریعے انکار شدہ بچوں میں سے 44%یعنی 46ہزار9سو سرسٹھ بچوں کو پولیو کے قطرے پلا دیے گئے
کل تعداد میں سے 1لاکھ 30ہزار6سو32 بچے وہ تھے جنہیں پہلے کبھی بھی پولیو ویکسین نہیں دلوائی گئی۔
یہ مہم شمالی وزیرستان کے علاقوں شوال اور سپنوام، ڈیرہ غازی خان کی 5قبائلی یونین کونسلوں تحصیل صوابی، قلعہ عبداللہ اوردی بوندی میں مقرر کردہ مختلف تاریخوں کے دوران منعقد کی جائے گی۔ شدید برفباری کے باعث یہ مہم چترال کی 10، سکردو کی 2 اور استور کی ایک یونین کونسل میں منعقد نہیں کی جاسکی ۔ شدید بارشوں نے اس مہم کو جن علاقوں جیسا کہ مانسہرہ، لکی مروت، فیصل آباد، ڈی جی خان، راولپنڈی، اسلام آباد اور خانیوال میں بری طرح متاثرکیا وہاں مہم کے دورانیہ میں ایک دن (18مارچ تک) کا اضافہ کر دیا گیا تھا۔
نیشنل ایمر جنسی اپریشن سینٹر وفاقی سطح پر تعینات فیلڈ ورکرز کے ذریعے کارکردگی کی جانچ کے فرائض سرانجام دیتا رہا اور صوبائی اور علاقائی سطح پر قائم مراکز کو بروقت اور درست معلومات کی فراہمی میں مسلسل رابطے کے لیے اپنا کردار ادا کرتا رہا ہے۔ لو کوالٹی ایشورنس سیمپلنگ (LQAS) اور تھرڈ پارٹی پوسٹ اسیسمنٹ کا عمل شروع ہو چکا ہے جبکہ تنائج کی رپورٹ ایک ہفتے کے اند ر جاری کر دی جائے گی۔
کوارڈینیٹر نیشنل ایمر جنسی اپریشن سینٹر، ڈاکٹر رانا محمد صفدر کا اپنے ایک بیان میں کہنا تھا کہ پولیو کے تدارک کے لیے جاری یہ مہمات انتہائی اہمیت کی حامل ہیں اسی لیے ان پروگراموں کے معیار کو برقرار رکھنا انتہائی ضروری ہے تاکہ ملک سے پولیو وائرس کے مکمل خاتمے کو یقینی بنایا جا سکے۔ "پولیو مہم کے دوران ویکسینیشن سے محروم رہ جانے والا ایک بھی بچہ ہماری ساری جدوجہد کے لیے خطرے کا باعث بن سکتا ہے"۔ انہوں نے مہم کے دوران ویکسینیشن سے محروم رہ جانے والے بچوں تک رسائی کو یقینی بنانے پر خوب اسرار کیا۔
نیشنل ای او سی نے مئی 2016ء تک ملک بھر میں پانچ مختلف پولیو مہم کے آغاز کی منصوبہ بندی کر رکھی ہے تاکہ اس موذی وائرس کو ملک میں پھیلنے سے روکا جا سکے ۔ جبکہ قومی اور صوبائی ای اوسیزنے طے شدہ آبادی تک رسائی اور ان میں مدافعتی قوت بڑھانے کے لیے خصوصی آئی پی وی مہم کے انعقاد کی بھی منصوبہ بندی کر رکھی ہے۔ بلوچستان میں آئی پی وی انتظامیہ کے ہمراہ بچوں کو ملیریا سے بچائو کی ویکسین بھی فراہم کی جائے گی